فرخ حبیب نے بھی پی ٹی آئی سے راہیں  جداکرلیں، استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوگئے

فرخ حبیب نے بھی پی ٹی آئی سے راہیں  جداکرلیں، استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوگئے

لاہور: فرخ حبیب نے بھی پی ٹی آئی سے راہیں  جداکرلیں۔

پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے بھی پی ٹی آئی سے راہیں الگ کرلی ہیں اور استحکام پاکستان پارٹی میں شامل  ہوگئے ہیں ۔پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نیوز  کانفرنس کرنے استحکام  پاکستان پارٹی کے دفتر پہنچ گئے ۔انہو ں نے وہاں پرعون چودھری کی  موجودگی میں پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کیا او ر استحکام پاکستان پارٹی میں شامل  ہوگئے۔

واضح رہے کہ لاہور کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما فرخ حبیب کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ 

فرخ حبیب نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ  ہم لوگ  نو مئی کے واقعات پر قانون کا سامنا نہیں کررہے تھے ۔عدم اعتماد کے بعد ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیاگیا۔

ہم جمہوری جدوجہد سے ہٹ کر ملک کو تشدد کی طرف لے آئے۔ حالات کے تسلسل اور جذبات کی وجہ سے میں بہت آگے نکل گیا تھا۔  پرامن سیاست  کی بجائے تشدد کاراستہ اختیار کیاگیا۔

اس وقت ہمارا مقصد قائداعظم کا پاکستان تھا۔ 2008میں ہم اس وقت کام کررہے تھے جب لوگ پوچھتے تھے کہ  پی ٹی آئی کیا ہے۔ 

ہم تو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لیے شامل ہوئے تھے ۔پرتشدد مزاحمت کاراستہ اختیار  کیاگیا۔ نوجوانوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا کہ  ادارے ان کے خلاف ہیں۔ سیاسی رہنما ماضی میں بھی گرفتار ہوتے رہے۔پی ٹی آئی نے تدبر کا مظاہرہ نہیں کیا۔ 

پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی اپوزیشن نے مقدمات کاسامنا کیا۔کسی احتجاج میں نہیں گیا، نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ افسوس ناک  اور قابل مذمت تھا۔ اس دن جو کچھ ہوا وہ ایک سیاہ دن کے طور پر یادرکھاجائے گا۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی تشدد کو پروموٹ کرتے رہے۔چیئرمین پی ٹی آئی چاہتے تھے کہ لوگ ان کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ہمارے جوان شہید ہوئے۔

میں نے اس چیئرمین پی ٹی آئی کا جوائن کیا تھا  جس نے ریاست مدینہ بنانے کا کہا تھا۔پاکستان نے سائفر پر ڈی مارش کیا۔

ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ سے گھڑیاں  لی ہوئی ہیں۔ توشہ خانہ میں زرداری اور باقیوں پر تنقید کرتا رہا ہوں۔ جو چیز قابل دفاع تھی ہی نہیں ہم اس کا دفاع کرتے ر ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کو چاہئے تھا کہ وہ پہلے دن ہی ہمیں بتادیتے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے گھڑیاں لی ہوئی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی گرفتاری  نہیں دینا چاہتے تھے۔القادر یونیورسٹی کے معاملے کو کابینہ سے بند لفافے میں منظور کرالیاگیا۔ 

جس دن حالات کشیدہ  ہوئے، اس دن سے میں گھر سے کسی احتجاج پر نہیں کیا۔

 سیاسی رہنما کہتے ہیں کہ جیل ان کا سسرال ہے۔جیل جاکر لیڈر اور بڑے ہوجاتے ہیں۔ ہائی مورال گرائونڈ کہاں گئے، ان چیزوں کے جواب آپ کو دینے ہیں۔ 

آپ کو اگلی بار موقع ملا تو بھی عثمان بزدار نے ہی آنا ہے۔ ایسےلوگ جن کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں وہ آ ج اشتہاری ہیں۔

سیاسی جدوجہد آئینی فریم ورک میں ہونی چاہئے۔دہشت گرد نہیں کہ پہاڑوں پر چھپا بیٹھا رہوں۔ہماری فیملیز تکالیف میں ہیں، لوگ گھروں سے بھاگے ہوئے ہیں ۔ آج آئی پی پی کے پاس کارکن بھی آگیا ہے۔

ایسے ایسے قابل لوگ تھے جن کو چیئرمین پی ٹی آئی نے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے سائیڈ پر کردیا۔