سقوط مشرقی پاکستان افسوس ناک اسباب، تکلیف دہ واقعات۔!

سقوط مشرقی پاکستان افسوس ناک اسباب، تکلیف دہ واقعات۔!

16 دسمبر 1971 کو گزرے نصف صدی سے زائد کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، لیکن پاکستان کی تاریخ کے اس سیاہ ترین دن کو میری طرح کے لاکھوں پاکستانی آج تک بھول نہیں سکے ہیں۔ اس لیے کہ اس دن ان کا پیارا پاکستان دو لخت ہو گیا تھا۔ انہیں شدید صدمہ اور دکھ پہنچا تھا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے تھے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آج بھی اس تاریک اور منحوس کو یاد کرکے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں۔ یہ ہماری تاریخ کا ایسا المناک اور تکلیف دہ دن تھا کہ اس دن ہماری کوتاہیاں، غلطیاں، خرابیاں، نادانیاں اور زیادتیاں بارآور ہوئیں، اپنوں اور غیروں کی سازشیں رنگ لائیں اور سقوط مشرقی پاکستان کاالمیہ رونما ہوا تھا۔ اس دن پاکستانی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے بھارتی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے شکست کی دستاویز پر دستخط کیے۔ ڈھاکہ کا پلٹن میدان ہی نہیں سونار بنگلہ کی فضائیں بھی پاکستان کی ذلت اور رسوائی پر چیخ اٹھی تھیں اور اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو یہ کہنے کی جسارت ہوئی تھی کہ آج نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں دفن کر دیا گیا ہے۔ 
16دسمبر 1971کو نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں دفن ہوا تھا یا نہیں البتہ نظریہ پاکستان کو سخت دھچکا ضرور لگا تھا کہ وہ بنگالی راہنما جو اس نظریے کے موئد اور پرجوش حامی تھے اور جنھوں نے اس نظریے کو عملی شکل دینے کے لیے بے مثال جدوجہد کی تھی، آج انہی کے صوبے میں نظریہ پاکستان کے تحت وجود میں آنے والی ریاست کو آدھا کرکے اس کی جگہ بنگالی نیشنلزم کے تحت وجود میں آنے والی ریاست بنگلہ دیش کو قائم کر دیا گیا تھا۔ شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق جنھوں نے 23مارچ 1940کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقد ہ لاہور میں ریاست پاکستان کی بنیاد بننے والی قرارداد لاہور جسے بعد میں قراداد پاکستان کا نام دیا گیا تھا پیش کی تھی اور حسین شہید سہروردی جنھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ہندوستان کی مرکزی دستور ساز اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان کے فروری 1946میں آل انڈیا کنونشن منعقدہ دہلی میں قرارداد لاہور میں موجود لفظ States (ریاستوں) کے بجائے State (ایک ریاست یعنی پاکستان) کی ترمیم کی منظوری کرائی تھی، ان کا تعلق اسلامی بنگلہ یا مشرقی بنگال (بعد میں مشرقی پاکستان) سے ہی تھا۔ ان کے علاوہ بھی بہت سارے اہم راہنما جنھوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور جنہیں قائد اعظم کے قریبی اور معتمد ساتھی ہونے کا اعزاز حاصل تھا اور ان میں خواجہ ناظم الدین، نور الاآمین، ایم ایچ اصفہانی اور مولوی تمیز الدین وغیرہ کے نام نمایاں تھے، ان سب کا تعلق بھی مشرقی بنگال سے تھا۔ 
افسوس صد افسوس کہ قیام پاکستان کو ابھی ربع صدی ہی گزری تھی کہ تحریک پاکستان کے ان پرجوش، سرگرم اور قابل قدر رہنما ؤں کا صوبہ متحدہ پاکستان سے ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا اور پاکستان کے دشمنوں کے گھروں میں گھی کے چراغ روشن ہوئے۔
افسوس صد افسوس صرف اس پر نہیں کہ پاکستان دولخت ہو گیا اس سے بڑھ کر افسوس اس بات پر بھی ہے کہ پاکستان کے حصے میں بہت ذلت، رسوائی اور بدنامی آئی۔ مشرقی پاکستان میں متعین پاکستانی فوج اور سول آرمڈ فورسز کا ہتھیار ڈالنا اور 90ہزار سے زائد افراد کا بھارت میں جنگی قیدی بن کرجانا بذات خود ایک بہت بڑااور انتہائی تکلیف دہ سانحہ اور ذلت کا مقام تھا ہی لیکن اس کے ساتھ پاکستان کی حکومت اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بھارت نے دنیا میں جو منفی پروپیگنڈہ کیا اور اس میں کچھ اپنوں نے بھی حصہ لیا وہ بھی کچھ کم ذلت اور رسوائی کا باعث نہیں تھا۔ اس منفی پروپیگنڈے کے تحت دنیا کو یہ باور کرا یا گیا کہ مشرقی پاکستان کے عوام کو ان کے حقوق ہی نہیں دیئے جارہے ہیں، ان کے وسائل مغربی پاکستان کی ترقی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور انہیں بزور طاقت پاکستان کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی سول انتظامیہ اور پاکستان کی مسلح افواج جن میں بنگالیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے وہ بنگالیوں کو دبانے کے لیے ان پر ہر طرح کے جبر کا حربہ روا رکھے ہوئے ہیں۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے بنگالی اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑرہے ہیں اور وہ اپنے لیے متحدہ پاکستان سے علیحدہ بنگلہ دیش کے نام سے آزاد مملکت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ بلاشبہ بڑا کارگر رہا، خاص طور پر جب مارچ 1971کے اواخر میں پاکستان کی مشرق کمان کو مسلح بنگالی علیحدگی پسندوں، عوامی لیگ کی ذیلی مسلح تنظیم مکتی باہنی کے مسلح غنڈوں اور ایسٹ پاکستان رایفلز سے تعلق رکھنے والے مسلح باغیوں کے خلاف "آپریشن سرچ لائٹ" کے نام سے فوجی آپریشن کرنا پڑا۔ شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کے اہم لیڈر جو پاکستان سے علیحدگی چاہتے تھے اور بنگلہ دیش کے قیام کا نعرہ بلند کیے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ دوسرے تخریب کار، باغی اور علیحدگی پسند اور مکتی باہنی کے غنڈے کسی نہ کسی طرح مشرقی پاکستان سے نکل کر یا بھاگ کر بھارت کے صوبے مغربی بنگال کے دارلحکومت کلکتہ اور دوسرے شہروں میں آگئے تھے۔بھارت جو شروع سے ہی چاہتا تھا کہ مشرقی پاکستان کسی طرح متحدہ پاکستان سے الگ ہو جائے، اس کے لیے یہ صورت حال اس کی دلی مراد بھر آنے کے مترادف تھی چنانچے وہ کھل کر مسلح بنگالی علیحدگی پسندوں اور باغیوں کی مدد کے لیے سامنے آگیا۔ اس نے عوامی لیگ کی مسلح تنظیم مکتی باہنی کے غنڈوں کو نہ صرف فوجی تربیت دی بلکہ ان کو ہر طرح کا اسلحہ بھی بہم پہنچایا اسی دوران بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان کے بحران کے متعلق بروقت فیصلے کیے جائیں گے۔ چنانچہ چند دن بعد بھارتی لوک سبھا نے مشرقی پاکستان کے بحران کے حوالے سے جو قرار داد منظور کی اس میں کہا گیا "یہ ایوان باغیوں کو یقین دلانا چاہتا ہے کہ ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو بھارت کی بھرپور ہمدردی اور حمایت حاصل رہے گی"۔اس طرح  بھارت کی عملی مدد اور تعاون سے پاکستان کی مسلح افواج کی بنگالی علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو دنیا کے سامنے بنگالیوں کے قتل عام اور ان کی نسل کشی اور ان پر ہر طرح مظالم کے پہاڑ توڑنے کے انتہائی مذموم پروپیگنڈے کی صورت میں پیش کیاگیا۔ امریکہ، برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک کا پریس بھی اس مذموم پروپیگنڈے کو پھیلانے میں ممد و معاون رہا۔ روس پہلے ہی روس بھارت معاہدہ کے تحت بھارت کی جدید ترین طیاروں اور اسلحے کی ترسیل کے ساتھ ہر طرح کی مدد کر رہا تھا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ پاکستان کی حیثیت دن بدن کمزور سے کمزور ہوتی گئی اور دنیا کے اہم ممالک اسے ایک طرح کے جارح کی روپ میں دیکھنے لگے۔ (جاری ہے)