انتخابی دھاندلی قبول کرتا ہوں ، ہم نے ہارے ہوئے امیدواروں کو پچاس، پچاس ہزار کی لیڈ میں تبدیل کر دیا: کمشنر لیاقت علی چٹھہ کا اعتراف

 انتخابی دھاندلی قبول کرتا ہوں ، ہم نے ہارے ہوئے امیدواروں کو پچاس، پچاس ہزار کی لیڈ میں تبدیل کر دیا: کمشنر لیاقت علی چٹھہ کا اعتراف

راولپنڈی: کمشنر راولپنڈی ڈویژن لیاقت علی چٹھہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے انتخابی دھاندلی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ 

کمشنر راولپنڈی نے اپنے پریس کانفرنس میں کہا کہ میں ڈویژن میں مبینہ دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ ہم نے لوگوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے اور ہارے ہوئے لوگوں کو 50 50 ہزار لیڈ سے جتوا دیا اس لیےمیں راولپنڈی میں انتخابی دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی پیٹھ پر جو چھڑا گھونپا  گیا ہے وہ مجھے سونے نہیں دیتا جس پر میں نے یہ مشکل فیصلہ کیا ہے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر تا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ہونے والی دھاندلی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان بھی ملوث ہیں، میرے ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا غلط کام کون کر رہا ہے اورکس نے کرایا کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، مجھ پرسوشل میڈیا اور اوورسیزپاکستانیوں کا دباؤ تھا، میں نے آج صبح  فجر کی نماز کے بعد خودکشی کی کوشش کی، پھر میں نے سوچا کیوں نا یہ ساری چیزیں عوام کےسامنے رکھوں، میں حرام موت کیوں مروں۔

سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کو حراست میں لے لیا ہے۔جبکہ نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے  الزامات کی انکوائری کے لئے اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کر دی ہے۔