سر سے پائوں تک تلاشی ہوتی ہے، اس کو اوپن کورٹ کہنا افسوسناک ہے: لطیف کھوسہ 

  سر سے پائوں تک تلاشی ہوتی ہے، اس کو اوپن کورٹ کہنا افسوسناک ہے: لطیف کھوسہ 

راولپنڈی :سردار لطیف کھوسہ  کاکہنا ہے کہ  ہمیں جیل عملہ کہتا ہے کہ تلاشی ہوگی، سر سے پائوں تک تلاشی ہوتی ہے۔ اس کو اوپن کورٹ کہنا افسوسناک ہے۔

سردار لطیف کھوسہ   نے   اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ہمیں جیل عملہ کہتا ہے کہ تلاشی ہوگی، سر سے پائوں تک تلاشی ہوتی ہے۔ اس کو اوپن کورٹ کہنا افسوسناک ہے۔ان کاکہنا تھا کہ  سب وکلاء اور میڈیا کو بے تحاشا مشکلات سے اندر جانے دیا جاتا ہے۔ خواتین وکلاء کو بھی ایسی تضحیک سے گزرنا پڑتا ہے،عدالت میں لیمپ نہیں ہیں روشنی کم ہے، وکلاء کو پڑھنے میں مشکلات ہیں،ان مشکلات کے باجود ہم یہاں آتے ہیں۔

اس سے زیادہ زلت و رسوائی نہیں ہوسکتی، اس کو اوپن کورٹ کہنا افسوسناک ہے،جو کہتے ہیں جیل ٹرائل اوپن ہوتا ہے، وہ یہاں آئیں ایک پیشی بھگتیں۔ ان کاکہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ عملے کی غلطی کے باعث ہماری پٹیشن سنگل بینچ کے پاس لگی، ان کا کہنا تھا کہ جج نے کہا نیب کے خلاف درخواست ہے یہ ڈویزنل بینچ سنے گا۔ 

 ہم نے کہا ہے کہ سرونگ سیشن جج نیب کا جج ہونا چاہئے،2022 سے لے کر جو بھی جج کیس سنتے رہیں وہ تمام کارروائیاں متصادم ہوں گی ،ان کا نوٹیفکیشن کبھی وفاق سے ہوا ہی نہیں،موجودہ نیب جج بہت تیزی میں ہیں گواہوں کے بیانات درج ہورہے ہیں،ہماری درخواست چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس گی جنہوں نے ڈویزنل بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ اگر ہماری درخواست پر حکم امتناعی آگیا تو پھر یہ جج سماعت نہیں کرسکیں گے،چند حلقوں پر جہاں شکایات آئی تھی ان حلقوں پر گوہر اور عمیر نیازی غور کریں گے،باقی ٹکٹ جو ہوچکے وہ چکے ہیں۔

مصنف کے بارے میں