مسلم لیگ ن کو ووٹ اپنی شرائط پر دوں گا، لچک انہیں دکھانا ہوگی،یہ نہیں ہوسکتا وزارت عظمیٰ کا ووٹ بھی اور شرائط بھی منوائیں: بلاول بھٹو

مسلم لیگ ن کو ووٹ اپنی شرائط پر دوں گا، لچک انہیں دکھانا ہوگی،یہ نہیں ہوسکتا وزارت عظمیٰ کا ووٹ بھی اور شرائط بھی منوائیں: بلاول بھٹو

اسلام آباد : سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے پاکستان کی عوام نے کسی ایک جماعت کو وہ اکثریت ہی نہیں دی کہ وہ اپنے طور پر حکومت کرسکے مسلم لیگ ن کو ووٹ اپنی شرائط پر دوں گا یہ نہیں ہوسکتا وزیرا عظم کا ووٹ بھی لیں اور شرائط بھی منوائیں۔ 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے مہم کے مطابق چلا اور اگر انتخابات جیت جاتا اور واحد سب سے بڑی جماعت میری ہوتی تو میں سب کو کہہ سکتا تھا کہ یہ واحد میرا مینڈیٹ ہے کسی اور کا نہیں مگر عوام کا شعور دیکھ لیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے پیغام دیا کہ اس ملک کو ایک جماعت نہیں چلا سکتی بلکہ آپس میں فیصلہ سازی کرنی ضروری ہے، وہ کسی ایک کو اختیار دے ہی نہیں رہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر (ن) لیگ، پی ٹی آئی کو حکومت کرنا ہے تو ایک دوسرے کے ساتھ ملنا پڑے گا۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ یہ جمہوریت کی کمی نہیں بلکہ برعکس ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام نے ایسا فیصلہ دیا ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص سیاسی جماعتوں کو آپس میں مل بیٹھ کر بات کرنی پڑے گی تاکہ پارلیمانی نظام، وفاق، معیشت کو بچا سکیں، اس صورتحال سے نکلنے کا واحد طریقہ باہمی مشاورت ہے۔
   
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے انتخابات کے عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنی جلدی حکومت سازی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے اتنا ہی بہتر ہے۔ جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کی بات ہے یہ تو ایک بہت مزے کی بات ہے کہ تکنیکی طور پر وہ سب سے بڑی جماعت ہے مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو کسی سے بات نہیں کرن ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ دوسری طرف (ن) لیگ ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جو ہمارے پاس آئے گا، ہم ان سے بات کریں گے۔ اگر مجھے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینا ہے تو میں انہیں اپنی شرائط پر ووٹ دوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی تشکیل میں یہ جو سست روی ہے یہ ڈائیلاگ کمیٹی کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہے۔اس سست روی سے نقصان پاکستان اور اس کی جمہوریت کو ہو رہا ہے، ہم اپنے مؤقف پہ قائم ہیں، ہم اسے تبدیل نہیں کریں گے لیکن اگر کوئی اور اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرے گا تو پھر ایک رکاوٹ آجائے گی اور اس کے نتیجے میں جو ہوگا وہ نا پاکستان کی جمہوریت کے فائدے میں ہوگا نا معیشت کے۔
 

مصنف کے بارے میں