کیا 'چندریان تھری' پھٹ گیا؟ آسٹریلیا کے ساحل سے پر اسرار گنبد نما چیز دریافت!

کیا 'چندریان تھری' پھٹ گیا؟ آسٹریلیا کے ساحل سے پر اسرار گنبد نما چیز دریافت!
سورس: File

پرتھ : گنبد جیسی نظر آنے والی چیزآسٹریلیا کےعلاقے پرتھ کے شمال میں تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) کے فاصلے پر گرین ہیڈ بیچ پر مقامی لوگوں نے دریافت کی جس کے بارے قیاس آرئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

مغربی آسٹریلیا کے ساحل پر پُراسرار گنبد جیسی نظر آنے والی چیز سے سب حیران ہیں، جس سے متعلق بھارتی خلائی پروگرام (اسرو) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ساحل سے ملنے والی گنبد نُما چیز یقینی طور پر کسی راکٹ کا حصہ ہے۔

 
میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرو کے سربراہ ایس سومناتھ نے کہا کہ پُراسرار چیز کا تعلق بھارت سے ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا، جب تک ہم اس کی جانچ نہیں کر لیتے اس وقت تک ہم یہ صدیق نہیں کرسکتے کہ یہ ہمارا ہے۔

گرین ہیڈ بیچ کے رہائشیوں نے بتایا کہ سلنڈر نما گنبد تقریباً 2.5 میٹر چوڑا اور 2.5 میٹر سے 3 میٹر لمبا تھا۔ شروعات میں اس حوالے سے کہا جارہا تھا کہ پُراسرار شے MH370 کا حصہ ہو سکتا ہے، یہ ایک طیارہ ہے، جو 2014 میں مغربی آسٹریلیا کے ساحل سے 239 مسافروں کے ساتھ لاپتہ ہو گیا تھا۔

اس کے بعد ماہرین نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ کسی مسافر طیارے کا حصہ نہیں اور ممکنہ طور پر یہ کسی راکٹ کا حصہ ہے، جو بحر ہند میں کسی موقعے پر گرا ہوگا۔

  

ہوا بازی کے ماہر جیفری تھامس کا کہنا ہے کہ یہ شے ممکنہ طور پر ایک راکٹ سے ایندھن کا ٹینک تھا، جو گزشتہ 12 مہینوں میں کسی مرحلے پر بحر ہند میں گرا تھا۔

اس حوالے سے کئی باتیں سامنے آرہی ہیں، کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ پُراسرار سے کا تعلق بھارت کے حال میں خلا میں جانے کے لیے لانچ کیے جانے والے مشن ’چندریان 3‘ کا بھی ہوسکتا ہے، جسے بھارتی ماہرین نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔

یاد رہے کہ حال میں چندریان کے لانچ میں پی ایس ایل وی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے ساتھ ہی یہ بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ چندریان کے لانچ راکٹ کا حصہ ہو سکتا ہے مگر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ چیز کئی مہینوں سے پانی میں تھی، سامنے آنے والی تصاویر بھی اس بات کی تائید کرتی نظر آرہی ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں انڈیا نے چاند کے سفر پر  اپنا راکٹ' چندر یان تھری' مطلوبہ مدار میں بھیجا ہے۔ انڈیا نے اپنے راکٹ سے چاند پر لینڈر اتارنے والے چندر یان تھری سیٹیلائٹ کو کامیابی کے ساتھ زمین کے مطلوبہ مدار میں بھیجا۔ 

مصنف کے بارے میں