پارلیمنٹ میں بلانے کے بیان کے بعد جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں، سیاست سے ریٹائرمنٹ پر غور شروع کردیا: وزیر دفاع خواجہ آصف

پارلیمنٹ میں بلانے کے بیان کے بعد جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں، سیاست سے ریٹائرمنٹ پر غور شروع کردیا: وزیر دفاع خواجہ آصف

اسلام آباد :وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو پاکستان لا کر بسایا گیا، بانی پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ میں ان کے حق میں تقاریر  کی تھیں۔ میں نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور  لیفٹیننٹ جنرل(ر)فیض کو پارلیمنٹ بلانے کی بات کی تو مجھے دھمکیاں آنا شروع ہوگئی ہیں  کہ ان کے بارے میں بات مت کریں ۔


 وزیردفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  افغانستان کیساتھ اچھے بھائیوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ بھائیوں کی طرح کے مراسم رکھنا چاہتے ہیں، ہم نے عالمی دباؤ کے باوجود افغانستان کا ساتھ دیا،انہیں بھی اس چیز کا خیال رکھنا چاہئے،ہم ری ایکٹ کرنے کیلئے بھی پوری طرح تیار ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ  دہشت گردوں کے خاندان ادھر ،پلانر ادھر ہیں،ہم جن کیلئے عالمی سطح پر لڑتے رہے وہاں سے ہمیں نقصان ہورہا ہے جس کے پاس کاغذات نہیں وہ پاکستان میں رہنے کے مجاز نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ افغان عبوری حکومت ہمارے مطالبات پر غور کرے۔ ایران میں بھی  افغان مہاجرین کیمپوں میں رہتے ہیں ۔ان کو کیمپوں تک ہی محدود کیا گیا ہے ۔ہمیں افغان حکومت نے کہا تھا کہ 10ارب دیں ہم ان کو دور لے جاکر بسا دیتے ہیں، ہم نے کہا تھا کہ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ 10ارب دینے کے بعد یہ سارے اقدامات کئے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج جہاں پرہم کھڑے ہیں کیا قوم کو حق نہیں کہ پوچھا جائے کیوں کھڑے ہیں؟ جو ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں ان کے لواحقین کوجاکر کیا جواب دیں؟ قوم کا پوچھنا بنتا ہے کہ ہم ہی کیوں دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، جنرل ضیاءالحق کے دور نے ہمیں افغانستان کی جنگ میں الجھایا،انہوں  نے قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی تھی۔

 خواجہ آصف نے کہاکہ  نوازشریف کی اچھی خاصی چلتی حکومت کو ختم کیا گیا،2018کے الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی ، یہ کیوں جواب نہیں دیتے کہ انہوں نے قوم کے ساتھ زیادتی کی ،ملک جن مسائل سے دوچار ہے ان کے ذمہ دار قوم کو جواب دیں ،نوازشریف کے دور حکومت میں ملک ترقی کی سمت گامزن تھا،ان کی حکومت کو ہٹانا بڑی غلطی تھی جس کا خمیازہ عوام آج بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے  مزید کہا کہ میں سیاسی ورکر ہوں، بہت کچھ برداشت کیا اور برداشت کرنے کی ہمت بھی ہے، شیشے کے گھر میں رہ کر دوسروں کے گھروں میں پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں۔اب   سیاست سے ریٹائرمنٹ کیلئے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے،سیاست میں عزت بھی بے تحاشا ملی،گالیاں بھی بہت کھائیں۔

 ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ نوازشریف کا لندن جانا روٹین کا معمول ہے،واپس آجائیں گے، تمام سیاسی معاملات پر قائد نوازشریف سے مشاورت ہوتی ہے،حتمی فیصلہ ان کا ہی ہوتا ہے،ان کا  چوتھی بار وزیراعظم بننا خارج از امکان نہیں۔عام انتخابات اور سینیٹ کےامیدواروں کوبھی ٹکٹس نوازشریف کی منظوری سے دی گئیں۔جنہوں نےنواز شریف کو باہربھیجاتھا  انہیں تو لگتاتھا کہ واپسی نہیں ہوگی، نوازشریف واپس بھی آئے اورمستقبل میں وزیراعظم بھی بن سکتےہیں۔