بیوروکریسی قسمت بدل سکتی ہے

بیوروکریسی قسمت بدل سکتی ہے

ہماری بیوروکریسی بھی انسانوں پر مشتمل ہے،اگر کوئی سمجھے، ان کے بھی انسانی جذبات و احساسات ہیں،انسانی فطرت کے مطابق سراہے جانا بیوروکریسی کی بھی خواہش ہے مگر سرکاری عمال کو ہر دور میں حکمران طبقہ اور سیاستدانوں نے جزو فاضل سمجھا حالانکہ سرکاری مشینری کسی بھی حکومت کا جزو لاینفک بلکہ عوام اور حکمرانوں میں رابطہ کار ہوتی ہے،یہ الگ بات کہ ہر سرکاری افسر کے کام کا ایک الگ اور اپنا انداز ہوتا ہے۔ 
وزیر اعظم عمران خان نے دس وزارتوں کو کارکردگی کی بنیاد پر تعریفی اسناد جاری کی ہیں اور ان کے وزراء کے کام کی تعریف کی،معاون خصوصی وزیراعظم شہزاد ارباب کے مطابق وزارتوں کی کارکردگی پہلی سہ ماہی میں 49فیصد تھی جو دوسری سہ ماہی میں 69 فیصد ہو گئی،ان کا کہنا ہے تعریفی اسناد کے اجراء کے بعد کارکردگی کا تناسب مزید بہتر ہو رہا ہے اور امید ہے اگلی سہ ماہی تک کارکردگی90فیصد کے قریب ہو جائے گی،اس جائزہ رپورٹ میں حقیقت کتنی ہے اس بارے کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی،تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انسانی فطرت کے مطابق تعریف و توصیف اور اعزاز و اکرام سے انسانی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور فرائض کی انجام دہی خوش دلی سے کی جاتی ہے مزید محنت کا جذبہ ابھرتا ہے،اور کارکردگی کا اعتراف نہ ہونے پر کام کرنے والا بد دل ہو جاتا ہے،لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ دس وزارتوں کی کارکردگی کے اعتراف کے بعد تمام کابینہ کی کار کردگی میں بہتری آئیگی،مگر یہ بات بھی سامنے آنی چاہئے کہ وزارتوں کی کارکردگی صرف وزرا کی وجہ سے ہی نہیں ان وزارتوں کے سیکرٹریوں اور دوسرے افسران کی بھی مرہون منت ہیں۔
 راقم سرکاری مشینری کے حوالے سے پے در پے اپنی تحریروں میں مختلف تجاویز حکمرانوں کے گوش گزار کرتا رہتا ہے،اعزاز و اکرام اور تعریف و توصیف تو الگ بات مگر کسی بھی دور میں بیوروکریسی کو مکمل قابل اعتبار ہی نہیں سمجھا گیا،ہر پل ان کے سر پر نیب،ایف آئی اے،تبادلے کی تلوار لٹکی رہی،ریاستی ملازمین کی ترقی کیلئے آئین نے باقاعدہ ایک طریق کار متعین کر رکھا ہے مگر کسی بھی دور میں ان قواعد پر عملدرآمد نہ ہو سکا،ہر حکمران نے من پسند اور زبانی احکامات پر بلا چوں و چرا عمل کرنے والوں کو ہی ترقی بھی دی اور اعزاز و اکرام بھی،اگر چہ ہر ریاستی ملازم کی سالانہ خفیہ رپورٹ مرتب ہوتی ہے جس کی بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ لے کر ترقی و تعیناتی کی جاتی ہے،مگر یہ رپورٹ بھی پسند نا پسند کی بنیاد پر مرتب کی جاتی رہی،دیگر ریاستی ملازمین کی سالانہ خفیہ رپورٹ لکھتے وقت بھی افسر جو خود بے یقینی کا شکار اور خوفزدہ رہتے ہیں سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں کسی سے بگاڑکی کوشش نہیں کرتے۔
 انگریز دور میں اس سالانہ خفیہ رپورٹ کو باقاعدگی سے مرتب کیا جاتا تھا کسی دبائو یا پسند نا پسند کے بغیر،دیانتداری سے سرکاری مشینری کی رپورٹ مرتب کی جاتی اور خفیہ رکھی جاتی تھی،تب ملازمین کو افسر کی دیانت اور سیاسی مداخلت کا کوئی اندیشہ نہ ہوتا اس لئے خفیہ کار کردگی رپورٹ دیانتداری سے لکھی جاتی،اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی،تب ملازم بھی جانتے تھے کہ ان کی کارکردگی جانچی جا رہی ہے اور اس کی رپورٹ بھی مرتب کی جائیگی اس لئے سرکاری مشینری کا ہر پرزہ اپنے فرائض منصبی دیانتداری خوش اسلوبی اور قواعد کے مطابق انجام دیتا تھا،تب کسی اعلیٰ افسر کی مجال نہ ہوتی کہ کسی ماتحت کو ضوابط کیخلاف کسی کام کی انجام دہی پر مجبور کرے،سیاسی یا حکام کی مداخلت کا تو تصور نہیں تھا،مگر اب اعلیٰ حکام اور حکمرانوں کے غیر قانونی احکامات کی انجام دہی ہی اس امید پر کی جاتی ہے کہ اس کی رپورٹ اچھی لکھی جائے گی اور اسے دیگر کو نظر انداز کر کے ترقی مل سکے گی،حکمران اور سیاستدانوں کی سفارش کا چلن بھی اب عام ہے،اس لئے کارکردگی دکھانے کیلئے اب کوئی محنت کرتا ہی نہیں اب تو اعلیٰ حکام اور سیاسی حکمرانوں کی خوشی مطلوب ہوتی ہے۔
 سرکاری مشینری اور اس کے کل پرزوں کو اگر آج انتظامی یتیم کہا جائے تو غلط نہ ہو گا،انتظامی کارندے اپنے افسر تو کیا حکمرانوں کی بھی تیغ ستم کا شکار ہیں،انگریز دور کی دیگر اچھی روایات کی طرح سالانہ خفیہ رپورٹ کا نظام بھی تلپٹ کر دیا گیا جس کی وجہ سے انتظامی مشینری کا نظام چوپٹ ہو کر رہ گیا ہے،کسی سرکاری دفتر میں عوامی مسائل استحقاق کی بنیاد پر حل نہیں ہوتے،رشوت سفارش کا چلن عام ہے،اختیارات سے تجاوز کی بھی شکایات ہیں،اختیارات کے غیر قانونی استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جاتا،وجہ سب جانتے ہیں۔سفارش،رشوت یا سیاسی دبائو سے سالانہ خفیہ رپورٹ مرضی سے بہت اچھی لکھوا لی جائے گی،دلچسپ امر یہ کہ ایسی خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر اب 90کے قریب افسروں کو قبل از وقت ریٹائر کرنے کیلئے شو کاز نوٹسز جاری کر دئیے گئے ہیں،جبکہ جن رپورٹس کی بنیاد پر افسروں کی کارکردگی جانچ کر انہیں 20سالہ ملازمت کے بعد جبری رخصت کیا جا رہا ہے،ان رپورٹس کے مستند ہونے کا کوئی ثبوت ہے اس پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ بیوروکریسی اور ماتحت انتظامی ملازمین کو بھی تعریفی اور توصیفی سرٹیفکیٹ جاری کئے جاتے،ان کو بھی اعزاز و اکرام سے نوازا جاتا،اور سالانہ خفیہ رپورٹ کی ترتیب و تدوین میں جو خامیاں در آئی ہیں ان کو دور کر کے حقائق کی بنیاد پر سالانہ کارکردگی رپورٹ مرتب کر کے ترقی و تعیناتی کی جاتی جیسے دس وزراء کو تعریفی اسناد جاری ہونے سے کابینہ ارکان کی کارکردگی میں بڑھوتری کا دعویٰ کیا جا رہا اس سے بڑھ کر سرکاری ملازمین کی کارکردگی دیکھنے کو ملتی،اس حوالے سے ہمارے ہاں انصاف کا ادھورا نظام ہے جس پرآنکھیں بند کر کے عمل کیا جا رہا ہے،یہ سوچے بغیر کہ ایک نا اہل کو اعزاز و اکرام دینے سے کتنے اہل ملازمین کی حق تلفی ہو رہی ہے،کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی ہے،غیر قانونی زبانی احکامات سے ماتحت عملہ سے غیر قانونی کام کرانے والے افسر عزت سے مدت ملازمت پوری کر کے تمام مراعات حاصل کرتے ہیں اور ماتحت ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتا رہتا ہے،کبھی وزراء سے کوئی پوچھتا نہیں کہ وزارت کے سربراہ آپ تھے آپ کے ہوتے یہ سب کیوں ہوتا رہا؟آپ نے کیوں نہ روکا،اآپ نا اہل تھے یا بے خبر تھے،پھنس بیوروکریٹ جاتے ہیں اور محکمانہ تادیبی کارروائی کے بجائے عدالتوں میں پیشیاں بھگتتے رہتے ہیں۔
آج بھی قومی و صوبائی بیوروکریسی میں بہت سے اہل،قابل،دیانتدار،مخلص،تعلیم و تربیت یافتہ افراد موجود ہیں،ان کو قواعد کے مطابق بروئے کار لا کر کوئی بھی حکومت ڈیلیور کر سکتی اور عوام کو ریلیف دے سکتی ہے،ضروری مگر یہ کہ ترقی، تعیناتی، تبادلہ میرٹ پر ہو،اعزاز و اکرام سے نوازا جائے،کارکردگی کی بنیاد پر احترام دیا جائے اور اعتماد کیا جائے تو یہی بیوروکریسی اس ملک اور عوام کی قسمت بدل سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں