بٹگرام چیئر لفٹ کی تین میں سے دو  رسیاں ٹوٹ گئیں، ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹر سمیت جائے وقوعہ پر موجود

بٹگرام چیئر لفٹ کی تین میں سے دو  رسیاں ٹوٹ گئیں، ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹر سمیت جائے وقوعہ پر موجود

بٹگرام: تحصیل الائی یوسی بٹنگی پاشتو میں چیئر لفٹ کی تین میں سے دو  رسیاں ٹوٹ گئیں،  رسی ٹوٹنے سے 8 افراد کئی گھنٹوں سے چیئر لفٹ میں پھنسے ہوئے ہیں۔   آپریشن کے لئے انتظامیہ اور ریسکیو کی ٹیمیں ہیلی کاپٹر سمیت جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں لیکن تاحال ریسکیو آپریش شروع نہ ہو سکا۔ 

چیئرلفٹ میں پھنسے شخص گلفراز نے نجی چینل  سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم 6 بچے اور 2 افراد صبح 6 بجے چیئرلفٹ میں سوار ہوئے تھے۔  چیئرلفٹ ایک میل چلی تو پہلی رسی 7 بجے ٹوٹی  اوراس کے بعد دوسری رسی بھی ٹوٹ گئی۔ 


 گلفراز کا کہنا تھا کہ ہم  تقریبا چھ گھنٹے سے مدد کے منتظر ہیں،  چیئرلفٹ میں ایک لڑکا تین گھنٹے سے بے ہوش ہے، یہ لڑکا دل کے عارضے میں مبتلا ہے  اور اسپتال جارہا تھا، لفٹ میں ہم 8 افراد موجود ہیں، چیئرلفٹ میں ہمارے پاس پینے کا پانی تک نہیں اور فون کی بیٹری بھی ختم ہورہی ہے۔

آر پی او بٹگرام طاہر ایوب خان کا کہنا ہےکہ ہم نے چیئرلفٹ ماہرکو بھی بھیجا ہے، لفٹ بہت اونچائی پر ہے، نیچےکھائی ہے اور نیٹ لگانا مشکل ہے۔

دوسری جانب ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ پاک آرمی کا ریسکیو ہیلی کاپٹربٹگرام پہنچ کر ایریاکی ریکی کررہا ہے،یہ ایک انتہائی خطرناک آپریشن ہے اس لیے ریکی کے بعد بڑے محتاط انداز میں ریسکیو آپریشن کیا جائےگا۔ 

حکام نے مزید بتایا کہ چیئر لفٹ غیرمتوازن ہونے اور ہیلی کاپٹر کے ہوائی پریشر سے لفٹ ٹوٹ  بھی سکتی ہے اس لیے انتہائی احتیاط سے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تاہم،  ایک مقامی استاد ظفر اقبال نے  نجی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بچے صبح 7 بجے سے پھنسے ہوئے تھے۔ چیئر لفٹ  کی دو  رسیاں ٹوٹنے کے باعث مسافر تقریباً 900فٹ کی بلندی پر پھنس گئے، انہوں نے مزید کہا کہ اس کیبل کو مقامی لوگ نجی طور پر دریا کے پار نقل و حمل کے لیے چلاتےہیں کیونکہ اس علاقے میں کوئی سڑک یا پل نہیں ہے۔ 

ظفر اقبال کامزید کہنا ہے کہ علاقے میں سڑک کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے روزانہ کم از کم 150 طلباء چیئر لفٹ کے ذریعے اسکول جانے کا خطرناک سفر کرتے ہیں۔

الائی کے اسسٹنٹ کمشنر جواد حسین کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122 کی ٹیموں کے ساتھ مقامی انتظامیہ موقع پر موجود تھی لیکن اونچائی اور پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ریسکیو اہلکاروں کے لیے امدادی کارروائی کرنا ممکن نہیں تھا۔

دریں اثناء عبوری وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ کیبل کار میں پھنسے تمام افراد کو نکالا جائے۔

انہوں نے قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کو تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے اور پہاڑی علاقوں میں کیبل کاروں کے لیے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

آئی ایس پی آر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پاک فوج ریسکیو آپریشن کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ 

مصنف کے بارے میں