ہمالیہ جوہری حریفوں کا میدان جنگ

Eric Margolis, Pakistan, Lahore, Naibaat Newspaper, e-paper

دنیا میں سب سے زیادہ آبادی کے حامل دو ملک چین اور بھارت جو کہ نیوکلیئر طاقتیں بھی ہیں، کے مابین دنیا کے بلند ترین خطے ہمالیہ کے علاقے لداخ میں گزشتہ ہفتے جھڑپ ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق اس جھڑپ میں 30 سے زائد بھارتی فوجی مارے گئے، جنگ بندی سے قبل درجن بھر فوجی قیدی بھی بنا لئے گئے تھے۔ کسی نیوز ایجنسی نے چینی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ نہیں کیا۔
لداخ دنیا کے چند دور دراز، گمنام اور غیر محفوظ مقامات میں سے ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 4200میٹر بلند انتہائی سرد علاقے میں آکسیجن کی سخت کمی ہے۔ یہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں، سارا سال ہر طرف تیز سرد ہواؤں کا راج رہتا ہے۔ چاند جیسی تاریکی کا تاثر دینے والے اس خطے کو ”چھوٹا تبت“ بھی کہا جاتا ہے، جس کی وجہ یہاں کے نیم خانہ تبتی نژاد چرواہے ہیں۔ چین نے تبت کے تاریخی طرز زندگی اور کلچر کو لگ بھگ ختم کر کے رکھ دیا ہے، جبکہ بھارت نے تبت کے طرز زندگی کو بڑی حد تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔ لداخ جیسے خطے پر چین بھارت لڑائی مجھ کو صحرائے اوغادن جیسے بنجر علاقے کے لئے ایتھوپیا اور اریٹریا کے مابین کشمکش کی یاد دلاتی ہے کہ جیسے دو گنجے کنگی کے لئے لڑ رہے ہوں۔
مجھے کئی بار لداخ گھومنے کا موقع ملا، کئی بار جیپ پر، کبھی پیدل، کبھی یاک پر سوار ہو کر اس خطے میں گھوم چکا ہوں، دنیا کا بلند ترین گلیشیر سیاچن بھی دیکھا۔ پاکستان اور بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاچن پر لڑ رہے ہیں، جو کہ انسانی تاریخ میں کسی بھی بلند ترین مقام پر لڑی جانے والی جنگ ہے۔ ایک پاکستانی فوجی افسر نے مجھے بتایا ”ہم ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ ہم حصے کی جہنم پر بھی انہیں قبضہ کرنے نہیں دیں گے“۔ میری کتاب ”War at the top of the World“ کشمیر اور ہمالیہ میں پاکستان، بھارت اور چین کے مابین کشمکش سے متعلق ہے۔ لداخ کی وادی گلوان میں بھارت اور چین ایک دوسرے کے خلاف کیوں صف آرا ہیں؟ دونوں کرونا کی وبا سے نمٹنے میں بھی مصروف ہیں۔ ہمالیہ کی سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے کے لئے دہلی اور بیجنگ کے درمیان ڈپلومیسی چلتی رہتی ہے۔ لداخ کی جھڑپ کوئی حادثہ نہیں بلکہ چین کا ایک منصوبہ بندی کے تحت جارحانہ اقدام اور 1962ء کے بعد دونوں ملکوں بڑے ایشیائی ملکوں کے مابین ایک بڑا ملٹری آپریشن ہے، جس کے نتیجے میں شرمناک شکست بھارت کے حصے میں آئی۔ اس پر چین نے کہا کہ یہ لڑائی بھارت کے لئے واضح پیغام ہے کہ وہ خطے سے متعلق اپنے عزائم کو قابو میں رکھے۔ اس مرتبہ لگتا ہے کہ چین بھارت کو کوئی اور ہی پیغام بھیج رہا ہے۔
ہمالیہ کے موجودہ مسئلے کی ایک وجہ برطانوی سلطنت ہے جس نے برطانوی ہند اور اس وقت کے خود مختار تبت کے درمیان واضح سرحدی حد بندی کرنے کی کبھی کوشش نہ کی۔ کئی سرحدی مقامات کا کبھی سروے نہ ہوا، کئی سرحدی لکیریں کچھ اس طرح کھینچیں کہ سرحدوں کا واضح تعین آج تک نہیں ہو سکا۔ دراصل اس دور میں 14سے 17ہزار فٹ بلند اس وسیع وعریض مگر غیر آباد خطے پر کوئی توجہ دینا نہیں چاہتا تھا، جسے آج بھارت کی شمالی سرحد کہا جاتا ہے۔ تب سے چین بھارت مضطرب حریف ہیں کہ دونوں ہمالیہ، قراقرم اور تبت کی سطح مرتفع سے نکلنے والے دریاؤں پر دعویٰ کرتے ہیں، وہ دریا جو کہ جنوبی ایشیا کے لوگوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔
حالیہ محاذ آرائی جو کہ دو بڑے ایشیائی ملکوں کے مابین ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ سکتی ہے، اس کی دو وجوہات ہیں؛ پہلی وجہ نریندر مودی کے تحت بھارت میں قوم پرست ہندو حکومت کا قیام ہے، جو کہ چین اور اس کے قریبی اتحادی اور دیرینہ حریف پاکستان دونوں کے خلاف عداوت کو مسلسل ہوا دے رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے مودی خطے میں نئی کشیدگی کو بڑھاوا دے چکے ہیں۔ مودی کے دیگر منصوبوں میں بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانا اور برما میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا توڑ شامل ہیں۔ بھارت کے خلاف چین کے بڑھتے غصے کی وجہ امریکا کی وہ کوششیں ہیں جن کا مقصد بھارت کے ساتھ فوجی اتحاد کو مضبوط بنا کر چین کی بڑھتی فوجی طاقت کا توڑ کرنا ہے۔
سابق صدر ٹرمپ اس کوشش میں رہے کہ بیجنگ کو امریکی زرعی اجناس کی زیادہ سے زیادہ خریداری کے لئے مجبور کر کے اپنے دوبارہ انتخاب کی راہ ہموار کریں؛ جو کہ ہر طرح سے ناکام رہی۔ دوسری جانب پنٹاگون نے مستقبل میں چین کے ساتھ جنگ کی تیاری شروع کر رکھی ہے۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران جوبائیڈن کے کردار اور پنٹاگون کے اقدام سے بھی یہی سامنے آیا ہے کہ امریکہ میں انتخابات کے بعد انتظامیہ تو تبدیل ہوئی مگر چین سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکی۔ دوسری طرف وائٹ ہاؤس کی مسلم مخالف لابی نے 40لاکھ بھارتی ہندوؤں کی امریکا امیگریشن کی خاموشی سے اجازت دیدی ہے تاکہ امریکا میں مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کا توڑ کیا جا سکے۔ سابق صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بھی پیشکش کی، جو بھارت نے حقارت کے ساتھ مسترد کر دی تو موجودہ صدر بائیڈن نے اپنے انتخاب کے بعد سے وزیراعظم پاکستان سے ٹیلی فون پر رابطہ بھی کرنا گوارا نہیں کیا۔ ان کے اس اقدام کو معاندانہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ مگر چین پالیسی میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ ابھی تک امریکی عوام اور اقوام عالم سمجھنے سے قاصر ہیں۔
(بشکریہ: ہف پوسٹ)