آگ سے نہ کھیلیں

Umer Khan Jozi, Pakistan, Lahore, Naibaat Newspaper, e-paper

امام صاحب مسجدکے عقبی دروازے سے جونہی اندرداخل ہوئے توہم صف میں اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔امام صاحب کودیکھتے ہی وہ صاحب اس پرایسے برسنے لگے جیسے برسات کاموسم یامون سون کاکوئی سیزن ہو۔حضرت ذرا ٹائم دیکھیں کیاہوا۔؟ہم نے اپنارخ فوراًمسجدکی گھڑی کی طرف پھیراتوایک منٹ نمازکے ٹائم سے اوپرہوگیاتھا۔ایک۔۔ صرف ایک منٹ لیٹ ہونے پراتناغصہ۔؟ہم آگے کے بجائے پیچھے کی طرف مڑے اورکچھ بڑھے۔صاحب کیامسئلہ ہے۔؟ امام صاحب اگرایک منٹ لیٹ ہوگئے توکونسی قیامت آگئی۔؟او۔۔نہیں جی۔۔ٹائم ٹائم ہوتاہے۔پھران مولویوں کی توعادت ہے لیٹ آنا۔ وہ صاحب مسجدکمیٹی کے کوئی ممبریاکوئی عہدیدارلگ رہے تھے تب اس کی دس گزلمبی زبان منہ سے کافی دورنکل چکی تھی۔ہم قریب ہوکرشریفانہ اندازمیں اس کوسمجھانے لگے کہ حضرت ٹائم ٹائم ہوتاہے یانہیں لیکن ایک بات یادرکھیں امام امام ضرور ہوتا ہے۔ نمازوں کایہ ٹائم یہ کوئی حرف آخریایہ کوئی ٹائم بم نہیں کہ فکس ٹائم پراگرامام صاحب نہیں پہنچے تو نماز کا  وقت گزرجائے گایاکوئی بم پھٹ جائے گا۔ماناکہ ہرنمازکاٹائم اورایک وقت ہوتاہے لیکن معذرت کے ساتھ وہ وقت یاٹائم کوئی ایک یادومنٹ نہیں اگرکوئی امام،کوئی قاری،کوئی مولانایاکوئی مفتی صاحب اگر نماز کے مقررہ ٹائم سے ایک دوکیا۔۔؟ پانچ دس منٹ بھی اگر لیٹ پہنچے توتب بھی نمازکی صحت پرکوئی فرق اوراثرنہیں پڑتانہ ہی ثواب میں کوئی کمی آتی ہے۔امام صاحب بھی توہمارے جیسے ایک انسان ہیں۔جس طرح ہمارے ساتھ ضروریات ہیں، مجبوریاں ہیں،کمی اورپیشیاں ہیں۔اسی طرح امام صاحب بھی توضروریات،مجبوریوں اورکمی پیشیوں کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔پھرہم تونمازکے لئے روزلیٹ آتے ہیں۔کبھی کبھارنہیں بلکہ اکثرآتے بھی نہیں۔امام صاحب ایک وقت یاایک دن اگرلیٹ آگئے توکیاہوگیا۔؟پتہ نہیں ہماری باتیں اس صاحب کی سمجھ میں آئیں یانہ۔لیکن آپ یقین کریں اس دن ہمیں اپنے اس حال پرترس اوررحم آیا۔وہ امام اوروہ مولاناصاحب جونہ صرف پانچ وقت ہماری نمازیں پڑھاتے ہیں بلکہ ہماری مسجدوں اورمدرسوں کوبھی آبادرکھتے ہیں۔جن کی محنت اوربرکت سے ہمارااورہمارے بچوں کاشمارآج مسلمانوں میں ہوتاہے وہ اگرہم سے محفوظ نہیں توپھرہم اورہمارے بچے کیسے محفوظ ہیں۔؟ جن قوموں اورلوگوں کے ہاں اپنے آئمہ، 
خطباء اور علماء کی قدر نہیں ہوتی آپ یقین کریں ایسی قوموں اورایسے لوگوں کودنیاکی تباہی، بربادی اور جہنم کے سرخ انگاروں سے پھرکوئی نہیں بچا پاتا۔ یہی وہ امام، یہی وہ خطیب، یہی وہ قاری، یہی وہ مولانا اور یہی وہ علماء تو ہیں جنہیں ”ورثۃ الانبیاء“ انبیاء کے وارث کہا گیا ہے۔ انبیاء کے ان وارثوں کا ادب اور احترام ہم سب پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ روئے زمین پر اگر یہ نہ ہوتے تو ہمیں بھی پھر یہ نمازیں، یہ روزے، یہ حج، یہ عمرے اور یہ عبادات کبھی نصیب نہ ہوتیں۔ یہ تو انہی علماء اورصلحاء کی برکت ہے کہ آج ہمیں امامت کے ساتھ نماز پڑھنے کاشرف بھی مل رہاہے اوراللہ کے گھر ودر پرقلبی سکون بھی۔جن لوگوں کی وجہ سے آج ہم سکون میں ہیں ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتاکہ ہم ایک اوردومنٹ لیٹ آنے یاپہنچنے کے بہانے پران کوبے سکون کریں۔مسجدکمیٹیوں کی آڑمیں آج کراچی سے گلگت اورکشمیرسے چترال تک ہم نے آئمہ مساجدکوبے عزت کرنااپنامعمول بنا لیا ہے۔ ملک کے اکثرصوبوں،شہروں اورعلاقوں میں مسجدکمیٹیاں بناکرہم نے اللہ کے گھروں کا انتظام اورانصرام ایسے ایسے لوگوں کے حوالے کردیاہے جن کودین کی الف ب کاکوئی پتہ ہے اورنہ ہی دینی علوم اوراللہ کے احکامات کی کوئی سمجھ بوجھ۔مسجدکمیٹی کے چیئرمین یاممبرہونے کایہ مطلب نہیں کہ آپ پھرمسجدکے دروازے پرکھڑے ہو کرامام صاحب کی کلاس اورتلاشی لینا شروع کر دیں۔آپ کو اگر گریبان میں جھانکنے کا اتنا شوق ہے توآپ کسی امام،کسی قاری،کسی مفتی اورکسی مولوی کے گریبان میں جھانکنے کے بجائے گناہوں سے اٹے اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے۔؟ مولوی اورامام صاحب کے پاک دامن کو ٹٹولنے کے بجائے آپ اپنے دامن پرایک نظرکیوں نہیں ڈالتے۔؟ امام صاحب کے ایک منٹ لیٹ آنے پر پورا شہر، پورا علاقہ، پورامحلہ اورسات آسمان سرپراٹھانے والے اپنے لیٹ آنے اورلیٹ جانے پرواویلاکیوں نہیں کرتے اور شورکیوں نہیں مچاتے۔؟ڈیوٹی ٹائم آٹھ بجے ہو توآپ نواوردس بجے جاتے ہیں کیاآپ نے اس پرکبھی شوراورواویلاکیاکہ میں لیٹ کیوں آیا۔؟آپ کی نوکری اورمزدوری کاٹائم چھ یا آٹھ گھنٹے ہوتاہے آپ چاریاپانچ گھنٹے بعدبھاگ کرگھرپہنچ جاتے ہیں کیاآپ نے ڈیوٹی ٹائمنگ کے بارے میں اپنے آپ سے کوئی سوال کیا۔؟ولیمے کاٹائم ایک یادوبجے ہوتاہے آپ ولیمے میں آنے والوں کوچاراورپانچ بجے تک بٹھاکررکھتے ہیں یاکوئی آپ کوایک اوردوبجے سے چاروپانچ بجے تک کا انتظار کرا دیتے ہیں اوریہ اس ملک اورمعاشرے میں اب ایک معمول بھی ہے کیا آپ نے کسی ولیمے میں دولہے کے باپ کو کھانا لیٹ ہونے پرکبھی گریبان سے پکڑاہے۔؟جن الفاظ اورجس لہجے میں آپ بے چارے ایک امام اورمولوی صاحب سے ایک منٹ کاحساب مانگ رہے ہیں کیاان الفاظ اوراس لہجے میں آپ نے کبھی کسی دولہے کے باپ سے تین اورچارگھنٹے لیٹ ہونے کی وجہ پوچھی ہے۔؟ختم،خیرات، شادی بیاہ اوردعوتوں میں چاراورپانچ گھنٹے کھانالیٹ ہونے پراگرآسمان نہیں گرتاتوآپ یقین کریں ایک اوردومنٹ نمازلیٹ ہونے پربھی آسمان کبھی نہیں گرے گا۔یہ مولوی،یہ قاری،یہ مفتی اوریہ علمائے کرام یہ آپ اورہمارے کوئی مزارع،کوئی خادم،کوئی نوکر،کوئی غلام اورکوئی مزدور نہیں یہ ہم سب کے امام ہیں اورامام ہمیشہ سروں کے تاج ہواکرتے ہیں۔جنہوں نے ان کی قدر اور قیمت پہچانی وہی منزل اورمقصودتک پہنچے۔تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں اورجن قوموں نے ان کودھتکارا،ان کوبے عزت کرنے کی کوشش کی وہ لوگ اورقومیں پھردوسروں کے لئے صرف عبرت کی مثال ہی بن پائیں۔اس لئے مسجدکمیٹی اور علاقے کی چیئرمینی وممبری کانشہ گھروں میں اتارکراللہ کے گھروں میں جائیں۔کوئی صدرہے یاوزیراعظم، ممبرہے یاکوئی چیئرمین،کوئی امیرہے یاغریب۔اللہ کے گھراوردرپرسب برابرہیں۔ صدر،وزیراعظم،چیئرمین،ممبراورامیرسے بھی زیادہ تواللہ کے قریب وہ ہیں جواللہ کے دین اورانبیاء کے وارثوں کے قریب ہیں۔انبیاء کے وارثوں اوراللہ کے مہمانوں کونشانہ بنانے کے لئے مواقع تلاش کرنے والے اللہ کے قریب کیسے ہوسکتے ہیں۔؟ہم نے ایک اوردومنٹ نمازلیٹ ہونے کی آڑ میں آئمہ مساجد کی تذلیل اورتضحیک کرنے والے بہت سے پکے ٹکے نمازیوں کوبھی اس دنیاسے بے نماز جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ا س لئے اپنے پکے ٹکے نمازی یامسجدکمیٹی کے ممبر و چیئرمین ہونے پرکوئی تکبروغرورنہ کیجیے۔نہ ہی اپنے امام اورمولوی صاحب کے مانیٹربننے کی کوئی کوشش کریں۔ورنہ کل کوپھرآپ بھی دوسروں کے لئے نہ صرف ایک تماشابلکہ عبرت کی ایک زندہ مثال بننے سے بھی اپنے آپ کوبچانہیں پاؤگے۔انبیاء کے وارثوں کی تذلیل اورتضحیک یہ توآگ کی مانندہے آگ سے کھیلوگے توجل کر بھسم ہوجاؤگے۔اس لئے علمائے کرام کے دامن کوٹٹولنابندکردیں اور اپنے گناہوں کی گنتی شروع کردیں کیونکہ اصل گناہ گارہی ہم ہیں۔