لیاقت جتوئی کی جانب سے لگائے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے، گورنر سندھ

لیاقت جتوئی کی جانب سے لگائے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے، گورنر سندھ
کیپشن: لیاقت جتوئی کی جانب سے لگائے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے، گورنر سندھ
سورس: فائل فوٹو

کراچی: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ تحریک انصاف نے سیف اللہ ابڑو کو اس لئے ٹکٹ دیا کیونکہ ان کا تعلق سندھ کے پسماندہ علاقے سے ہے اور ہم نے لاڑکانہ کو سیف اللّٰہ ابڑو کی صورت میں سینیٹ میں نمائندگی دی ہے لیکن اب لیاقت جتوئی نے جو الزامات لگائے ہیں ان کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج کا کوئی امکان نہیں اور وزیراعظم نے کبھی اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

گورنر سندھ نے کہا کہ الزامات لگتے رہتے ہیں اور سینیٹ ٹکٹ پارلیمانی بورڈ نے دیئے ہیں جبکہ ایک، ایک نام پر مشاورت ہوئی ہے اور سیف اللّٰہ ابڑو کو ٹکٹ پارلیمانی بورڈ نے دیا ہے۔ پارلیمانی بورڈ کی سربراہی وزیراعظم نے کی تھی اور لیاقت جتوئی سے میں خود بات کروں گا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ پارلیمنٹیرین آئی جی سندھ سے نالاں ہیں اور میں نے وزیر اعلی سندھ سے حلیم عادل شیخ کے واقعے پر مکمل رپورٹ مانگی ہے۔ امید ہے وزیر اعلی سندھ جلد مجھے خط کا جواب دیں گے۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ وزیر اعلی جب رپورٹ دیں گے تو وزیراعظم کو مکمل ثبوت کیساتھ معاملے سے آگاہ کروں گا تاہم وزیراعظم کو بتادیا ہے کہ سندھ میں آئی جی کی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعلیٰ سندھ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما لیاقت جتوئی نے الزام لگایا تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت نے سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ کا ٹکٹ 35 کروڑ میں بیچا تھا اور گورنر ہاؤس میں سیف اللہ ابڑو کو 35 کروڑ روپے کے عوض سینیٹ ٹکٹ دیا گیا تھا

انہوں نے کہا کہ ہمیں نظرانداز کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے۔ سندھ کے اہم فیصلے گورنر ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں کئے جا رہے ہیں۔ لیاقت جتوئی نے نظرانداز کیے جانے پر پارٹی سے علیحدگی کا عندیہ بھی دے دیا جبکہ 26 فروری کو پارٹی رہنماؤں سمیت اپنے حامی لوگوں کا اجلاس بھی بلانے کا بھی اعلان کیا۔