زراعت، معیشت، معدنیات اور خارجہ امور مقتدرہ کے پاس، تین بار  وزیراعظم رہنے  والے کے لئے اختیار سے خالی عہدہ بیکار ہوگا،  نواز شریف وزیر اعظم بنیں گے تاہم وہ اپنی ٹرم مکمل نہیں کریں گے: سینئر صحافی

  زراعت، معیشت، معدنیات اور خارجہ امور مقتدرہ کے پاس، تین بار  وزیراعظم رہنے  والے کے لئے اختیار سے خالی عہدہ بیکار ہوگا،  نواز شریف وزیر اعظم بنیں گے تاہم وہ اپنی ٹرم مکمل نہیں کریں گے: سینئر صحافی

لاہور: سینئر صحافی سہیل وڑائچ  نے اپنے کالم میں لکھا کہ کوئی مانے یا نہ مانے اس کے آنے کے بعد سیاسی منظر نامہ بدل چکا ہے، مستقبل کی سیاسی سکیم واضح ہوچکی ہے، صاف نظر آ رہا ہے کہ اسے اقتدار دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ 

اس کے پاکستان میں اترتے ہی نگران حکومتوں کا سحر ٹوٹنا شروع ہوگیا ہے۔ نوکر شاہی یا اقتدار پسندوں کے دوسرے گروہ، سب اس کے گرد جمع ہونا شروع ہو جائیں گے، نئی سیاسی صف بندیاں ہونگی اور نئے تانے بانے بُنے جائیں گے۔


کہا گیا ہے کہ انتقام نہیں لیا جائے گا یہ خوش آئند اعلان ہے لیکن اس کی عملی شکل کیا ہوگی؟ کیا کھلاڑی اور اس کی پارٹی کو بھی کھلا میدان ملے گا یا پھر اس کو جیل میں ہی کوئی رعایت ملے گی؟ 

سینئر صحافی بظاہر 9مئی کے ذمہ داروں اور کھلاڑی کے نمایاں ساتھیوں کے ساتھ کوئی ڈھیل ہوتی نظر نہیں آرہی شکنجہ اور کسا جا رہا ہے، نونی لیڈر اور مقتدرہ کے لئے سب سے پہلا مسئلہ یہی ہے کہ کھلاڑی کے بارے میں کسی فیصلے تک پہنچیں، ظاہر ہے کہ یہ ایسا فیصلہ ہونا چاہئے جو عقلی طور پر سب کے لئے قابل قبول ہو ۔


وہ واپس آیا ہے تو سب کچھ یک دم بھول تو نہیں سکتا اس کے خلاف پاشوں، ظہیر الاسلاموں اور رضوانوں نے جو جو گل کھلائے جو جو سازشیں کیں وہ سب اسے یاد ہوں گی۔ فیض حمیدوں، باجوئوں اور راحیل شریفوں کے خفیہ اور کھلے وار اسے کچوکے تو لگاتے ہوں گے۔ 

کھلاڑی اور عسکری خان مل کر جو جو کرتے رہے وہ بھلانا مشکل ہو گا اسے وہ انصاف خان بھی نہیں بھول سکتے جنہوں نے پانامہ کے نام پر اقامہ کے ذریعے اسے سزا دی، نااہل قرار دیا، اسکے مینڈیٹ کے باوجود اسے گھر بھیج دیا اسے وہ گالیاں، بے عزتی اور نفرت بھی نہیں بھولی ہو گی جس کا سامنا اس کو لندن میں کرنا پڑتا رہا۔

اگر تو وہ عام لیڈر رہنا چاہتا ہے تو ان سب زیادتیوں کو یاد رکھ کر اپنی پالیسیاں بنائے اور ایک ایک سے بدلہ لے تاکہ آئندہ کوئی منتخب وزیراعظموں کے ساتھ ایسا نہ کر سکے لیکن اگر وہ عظیم لیڈر بننا چاہتا ہے تو پھر نیلسن منڈیلا بننا ہوگا۔ 

بے نظیر بھٹو کی طرح اپنی جان کے دشمنوں کو بھی مفاہمت کی طرف لانا ہوگا، سب سے پہلے سیاست کے کرداروں میں مفاہمت ہونی چاہئے پھر ہی سیاست اور مقتدرہ کے معاملات طے ہوں گے۔

اسکے آنے کے بعد سے مقتدرہ اور اہل سیاست کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری لڑائی بھی پھر سے یاد آئے گی، اسے یہ سوال ضرور پریشان کرتا ہوگا کہ اگر اسے اقتدار مل بھی گیا تو کیا اس میں اختیار بھی ہوگا؟ 

کیا مقتدرہ کو نئے وزیر اعظم کی بجائے کہیں نئے کاکڑ کی تلاش تو نہیں۔ اگر مقتدرہ نے معیشت، زراعت اور خارجہ پالیسی خود چلانی ہے تو پھر وہ اقتدار لیکر کیا کرے گا ؟وہ تین بار پہلے وزیراعظم رہ چکا ہے اس لئے اس کے لئے اختیار سے خالی وزیراعظم کا عہدہ بیکار ہوگا۔ 

دوسری طرف مقتدرہ زراعت، معیشت، معدنیات اور خارجہ امور کے بارے میں بہت سے معاملات پہلے سے طے کئے بیٹھی ہے، ایسے میں وزیراعظم کو اختیار کہاں ملے گا؟ یہی وجہ ہے کہ نئی بحث یہ اٹھائی گئی ہے کہ وہ پارٹی کو چلائے، انتخابی مہم کو لیڈ کرے، پلان بنائے مگر خود وزیر اعظم

نہ بنے بلکہ اپنے چھوٹے بھائی کو ہی دوبارہ وزیر اعظم بنائے کیونکہ وہ مقتدرہ کے ساتھ چلنے کا کامیاب تجربہ رکھتا ہے۔


میرا اندازہ یہ ہے کہ معاملہ خاندانی طور پر پہلے سے طے ہوچکا ہے، جس کے مطابق نونیوں کے وزیراعظم کے امیدوار نواز شریف ہونگے الیکشن جیتے تو وہ وزیر اعظم بنیں گے تاہم وہ اپنی ٹرم مکمل نہیں کریں گے سال دو سال بعد وہ اپنے بھائی کو اپنی جگہ لے آئیں گے اور خود حکومت سے باہربیٹھ کر ان کی رہنمائی کریں گے۔