پنجاب وزارت اعلیٰ انتخاب اور آرٹیکل 63A

پنجاب وزارت اعلیٰ انتخاب اور آرٹیکل 63A

 تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی درخواست پر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ بادی النظر میں سپریم کورٹ کے 17 مئی کے فیصلے کے مطابق نہیں اورہمارے فیصلے کا غلط مطلب لیا گیاہے۔جمہوری روایت ہے کہ پارلیمانی پارٹی طے کرتی ہے کہ کس کی حما یت کرنی ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کوبطورٹرسٹی وزیر اعلیٰ بحال کرکے اختیارات محدود کردئیے گئے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس منیب شامل ہیں۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار حمزہ شہباز کو کامیاب قرار دے دیا گیا تھا۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پاکستان مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ مسترد کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کی رولنگ دی اورمسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے لکھے گئے خط کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ کی ہدایت کے خلاف پارٹی ارکان کا ووٹ نہیں گنا جاسکتا۔پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اپنی ہی جماعت کے رکن نامزدامیدوار پرویز الٰہی بارے اپنے ارکان اسمبلی کو ووٹ نہ دینے کی ہدایت کی تھی،پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلیٰ کیلئے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار بھی تھے۔ رن آف الیکشن سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ہوا،آئین کا آرٹیکل A63 بالکل واضح ہے، کہ ہدایات صرف پارلیمنٹ میں موجود پارلیمانی لیڈر ہی دے سکتا ہے، جو اس وقت چودھری پرویز الٰہی ہیں۔ آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی پالیسیوں سے انحراف کو روکنا ہے لیکن رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے ڈالے گئے ووٹ کو شمار نہ کرنا توہین آمیز عمل ہے کیونکہ 18ویں ترمیم میں ووٹ نہ گننے کا کوئی ذکر نہیں ہے اورعدالت ماضی میں پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کی آبزرویشن دے چکی ہے۔آئین کا آرٹیکل 17 اور 18 عام شہری کو آزادانہ ووٹ کے استعمال کا حق دیتا ہے لیکن عام شہری اور رکن اسمبلی کے ووٹ میں فرق ہے۔آرٹیکل 63A کے تحت اراکین اسمبلی پارلیمانی پارٹی ہدایات کے پابند ہیں، جبکہ وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کے انتخاب اور عدم اعتماد کی صورت میں اراکین پارٹی پالیسی پر ہی چلنے کے پابند ہیں، پارٹی سربراہ کے فیصلے کی خلاف جانے والے رکن اسمبلی کا ووٹ شمار لیکن ڈی سیٹ ہوگا۔ آرٹیکل 63A کی ہیڈنگ ہی نااہلی سے متعلق ہے اورنااہلی کیلئے آئین میں طریق کار واضح ہے، آئین کے آرٹیکلز 62-63-63A  کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا۔آرٹیکل 17(2) سے متعلق سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ انفرادی ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں، آرٹیکل 63 اے نے انحراف پر ایک طریق کار وضع کر دیا ہے، اس معاملے کے ایک آئینی اور دوسرا قانونی نتائج ہیں۔سیاسی اثر یہ ہے کہ رکن کو دوبارہ ٹکٹ نہیں ملے گا جبکہ آئینی نکتہ یہ ہے کہ نااہل ہو جائے گا۔63 اے یا آرٹیکل 95 کی بیناد پر سارا سیاسی سسٹم کھڑا ہے، 63 اے یا آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی تو سارا سیاسی سسٹم ہل جائے گا۔پارلیمانی پارٹی لیڈر کی ہدایات پر پاکستان مسلم لیگ کے 10 کے 10 ارکان نے پرویز الہٰی کے حق میں فیصلہ کیاہے۔پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد دونوں جماعتوں کی پارٹی پوزیشن کے مطابق حکومتی ارکان کی تعداد 180اور اپوزیشن ارکان کی تعداد 188تھی۔
سوال ہے کہ ارکان اسمبلی کس کی ہدایت کے پابند ہیں؟ یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کا ہے اور اس میں یہ واضح ہے کہ اس میں پارٹی سربراہ نہیں بلکہ پارلیمانی پارٹی کی رائے مانی جاتی ہے،سیاسی پارٹی اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے۔ پارٹی سربراہ بنیادی طور پر پارلیمانی پارٹی کی خلاف ورزی کرنے پرکارروائی کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کو کہہ سکتا ہے، اس لیے پہلا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے، ان کے فیصلے کے خلاف اگر کوئی جاتا ہے تو پھر پارٹی سربراہ کارروائی کیلئے کہہ سکتا ہے۔آئین میں واضح ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا لیڈر ہدایت دیتا ہے اور جب سزائیں دینے کی بات آتی ہے تب پارٹی سربراہ ڈیکلریشن سپیکر اور الیکشن کمیشن کو بھیجتا ہے۔نواز شریف نااہلی کیس میں لکھا ہے کہ غیر منتخب شخص پارٹی کا سربراہ ہوسکتا ہے لیکن اسمبلی میں فیصلوں کا اختیار پارٹی کے پارلیمانی سربراہ کوہوگا۔اسمبلی رولز کے مطابق بھی اگر پارلیمانی پارٹی کی دو تہائی اکثریت اپنا الگ گروپ بنا لے تو اسے قانونی پارلیمانی پارٹی تسلیم کیا جائے گا۔ پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی دو مختلف آرا ہونے پرپارلیمانی پارٹی کے ارکان پارلیمانی لیڈر کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں نہ کہ سیاسی پارٹی سربراہ کے پابند ہیں۔اس لیے پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر نااہلی کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔ان 10 ارکان نے پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی نہ کی ہے۔ کیسے ایک رکن اپنے ہی خلاف ووٹ دے گا؟ لہٰذاان حالات میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط ہے،اسپیکر کو ووٹ شمار نہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اہم بات یہ کہ چوھدری شجاعت حسین رن آف الیکشن میں اپنا پارٹی ڈکلیرشن نہیں بدل سکتے ہیں کیونکہ یہ نیا الیکشن نہ ہے بلکہ درحقیقت اسی الیکشن کا دوسرا مرحلہ ہے۔ مزید یہ آئین کے آرٹیکل 17, 55, 127 اور 130 کی رو سے پرویز الٰہی پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے نہ کہ تحریک انصاف کے تھے۔اپنی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کو اپنی پارٹی کے اراکین کے ووٹ ڈالناآئین کے آرٹیکل 63A کے تحت ہے۔اورسپریم کورٹ کے فیصلے میں آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمنٹری پارٹی کی ہدایت پر ہی اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں۔اس کیس میں اہم ہے کہ پارٹی سربراہ کی ہدایت ممبر تک پہنچی یا نہیں، اگر ق لیگ ارکان کہتے ہیں کہ ہمیں خط نہیں ملا تو خط کی قانونی حیثیت ہی ختم ہو جائے گی۔لہٰذا پارلیمانی لیڈر کو ووٹ نہ ڈالنے کیلئے کہنا سراسر قانون کے متصادم ہے اورآئینی طور پر اب رن آف الیکشن کے بعد چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلی پنجاب ہیں۔
 پنجاب اسمبلی میں جو مسئلہ پیدا ہوا وہ صرف سپریم کورٹ کی 63Aکی تشریح کو غلط سمجھنے سے پیدا ہوا، جس کی تشریح سپریم کورٹ ہی کو کرنا ہے۔ آئین متوازن طور پر ایک طرف یہ اختیار پارلیمانی پارٹی کو دیتا ہے تو پھر ڈی سیٹ کرنے کا اختیار پارٹی ہیڈ کو دیتا ہے بجائے اس کے کہ پارلیمانی لیڈر کو دے۔ آئین اسپیکر کو کوئی اختیار نہیں دیتا کہ وہ ووٹ کو discard کرے یا شمار نہ  کرے۔پنجاب اسمبلی میں جو ہوا وہ جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ہے سیاسی جماعتوں کو سرجوڑ کر کچھ بنیادی اصول بنانے کی ضرورت ہے، لیکن کیا قومی اداروں کی بھی کہیں کوئی ذمہ داری ہے؟ معززسپریم کورٹ کو اسے فل کورٹ کے سامنے رکھنا چاہئے اور اس کی تشریح کرنی چاہئے۔ اس وقت تمام مسائل کا بنیادی حل فوری الیکشن ہیں، ورنہ اس نئی صورتحال کے بعدپولرائزیشن میں اضافہ ہوگا اور سیاسی عدم استحکام زیادہ شدت اختیار کر جائے گا۔

مصنف کے بارے میں