جن قوانین کی ترامیم پر تحفظات  انہیں کل تک موخر کرتے ہیں:الیکشن ایکٹ میں مزید ترامیم کی منظوری حکومتی و اپوزیشن ارکان کی مخالفت پر موخر

جن قوانین کی ترامیم پر تحفظات  انہیں کل تک موخر کرتے ہیں:الیکشن ایکٹ میں مزید ترامیم کی منظوری حکومتی و اپوزیشن ارکان کی مخالفت پر موخر

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ میں مزید ترامیم کی منظوری حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی مخالفت پر کل تک موخر کردی گئی۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ 

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے  شروع ہو ا ۔ اجلاس میں الیکشن ایکٹ میں ترامیم پیش کرنے کا کہا گیا۔حکومت نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2021ء میں مزید ترامیم کا فیصلہ کیا گیا۔الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2021ء میں شامل الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انٹرنیٹ کی شق کو مشترکہ اجلاس سے مسترد کرانے اور بل میں اضافی ترامیم شامل کر کے قانون سازی کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایوان میں بتایا گیا کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم سے متعلق آج قانون سازی کی جائے گی جس پر ارکان برہم ہوگئے اور اعتماد میں لیے بغیر کسی بھی قانون سازی کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے انتخابی قوانین بل پر کل تک کا وقت دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کل تک کا وقت دے دیا جائے تاکہ ارکان تسلی کے ساتھ ترامیم دیکھ لیں۔سپیکر نے انتخابی اصلاحات بل کل تک موخر کرنے پر مشاورت کی۔ اس دوران حکومتی و اپوزیشن کے سینئر ممبران اور آئینی ماہرین سپیکر ڈائس پر پہنچ گئے۔ سپیکر قومی اسمبلی، سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری قانون سازی نے ممبران کے ساتھ مشاورت کی اور انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کل تک موخر کردی۔

مصنف کے بارے میں