ولا تخسروالمیزان

ولا تخسروالمیزان

انسان کے باطن میں فرقان کا قیام نہ ہو تو وہ ظاہر میں میزان قائم نہیں کر سکتا۔ مشاہدے سے اعراض کرنے والا بالعموم بیرون میں شواہد پر اعتراض کرنے والا پایا جاتا ہے۔ کلمہ توحید کا اقرار زبان ہوتا ہے، لیکن تسلیم دل میں ہوتی ہے۔ دل میں تسلیم نہ ہو تو وجود کی پیشانی کو زمین پر جھکانا سر بر منافقت کے باب میں آئے گا۔ اقبال کا شعر اپنے اندر ایک الہامی کیفیت لیے کھڑا ہے:
جو میں سر بسجدہ ہُوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنَم آشنا، تجھے کیا مِلے گا نماز میں
منافقت یہ ہے کہ مخلوق کو دکھانے کے لیے سر بسجود ہوا جائے، اخلاص یہ ہے کہ مخلوق کی پروا کیے بغیر قیام کی حالت کو برقرار رکھا جائے—— مخلوق کی ملامت کی پروا کی جائے نہ کسی طاقت کے خوف سے قیام مختصر کیا جائے۔ طویل سجدے سے مختصر قیام بدرجہا بہتر ہے۔ اقامتِ دین کے لیے قیام ضروری ہے اور دل کی دنیا آباد کرنے کے لیے سجدے کا نسخہ اکسیر ہے۔ قیام میں کمی رہ گئی تو سجدہ شکر کی جگہ سجدہِ سہو ادا کرنا پڑتا ہے، اور سجدہِ سہو کبھی سجدہِ شکر سہو کے برابر نہیں ہوتا۔
سجدے میں جھکا ہوا سر زمین پر ہوتا ہے لیکن دل میں تسلیم کی سرگوشی آسمان پر سنائی دیتی ہے۔ زمین کے سفر میں اگر آسمانی حوالہ موجود نہ ہو تو ہر چیز میزان سے باہر ہو جاتی ہے۔ انسان ظاہر پرست ہو جاتا ہے، کتاب کو صاحبِ کتاب کے خلاف بطور سند استعمال کرتا ہے، قانون کو قانون کی غائت کے برعکس استعمال میں لاتا ہے، دلائل کی موجودگی میں دلائل ہی کی مدد سے شواہد کا انکار اس کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔ اپنے مفاد اور مزاج کی رَو میں بہتا ہوا انسان اخلاص کے بے کنار سمندر سے ہم کنار نہیں ہو پاتا بلکہ کسی مردہ وجود کی طرح باہر پھینک دیا جاتا ہے۔
میزان کا فرقان سے تعلق عجب ہے۔ فرقان حق اور باطل میں فرق کرنے کی ایک باطنی صلاحیت کا نام ہے۔ فرقان کی دولتِ بے بدل سے متصف انسان ظاہری حجابات سے ورا دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ مقدار سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ معیار کی تاثیر سے آگاہ ہے۔ اس کی نگاہ خار پر نہیں، گل و گلزار پر ہوتی ہے۔ معیار کے خوگر اور مقدار کی دنیا کے اسیر میں وہی فرق ہوتا ہے جو شہد کی مکھی اور آوارہ مکھی میں ہوتا ہے۔ وحی کی قید سے آزاد آوارہ ہی ہوتا ہے۔ شہد کی مکھی (نحل) کی حرکات و سکنات کا فطری محرک و موجب وحیِ فطری ہے، بنا بریں وہ پھول اور خوشبو کی تلاش میں ہوتی ہے، وہ اپنے چھتے میں رہے تو بھی اس کا دھیان گلستان کی طرف ہوتا ہے، وہ بند آنکھوں سے پھولوں کے خواب دیکھتی ہے، اس کی حالتِ خواب اور بیداری میں فرق بعد 
المشرقین کا ہرگز نہیں ہوتا۔ وہ ایک کارندہِ تخلیق ہے، کارگہِ تخلیق کی فعال رکن ہے، جن راستوں پر اس نے سفر کرنا ہے اسے وہ راستے وحی فطری کے تحت سجھا دیے جاتے ہیں، فطرت کی اعلیٰ علیین کی پرت اس کے لیے کھول دی جاتی ہے۔ وہ خوشبو اور رنگ کی مدد سے نیرنگ شہد تخلیق کرتی ہے، اور اس کی تخلیق شفا اللناس قرار دی جاتی ہے۔ وہ خیر الناس من ینفع الناس کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہے۔ اس کے برعکس دوسری مکھی۔۔۔ بس دوسری قسم ہی سے تعلق رکھتی ہے، اس کی حرکات و سکنات اس کی جبلت کے ماتحت ہے، وہ کسی باطنی ہدایت کے پروٹوکول سے یکسر لاعلم ہے۔۔۔ جو جس علم سے لاعلم ہے اس سے حالتِ انکار میں ہونا اس کے لیے عین فطرت ہے۔۔۔ جبلتوں کے تحت ’’محوِ پرواز‘‘ یہ مکھی پھولوں پر نہیں بلکہ پھولوں کے آس پاس بکھری ہوئی بدبودار کھاد کی باس پر بھنبھناتی ہے، وہ محاسن کی خوشبو کی جگہ عیوب کی بو باس ہی کو زمینی حقائق تصور کرتی ہے۔ اب اس تصور کے تحت جو تصویر بنے گی اس میں کم از کم گلستان اور تزئین ِ گلستاں کا کوئی امکان نہ ہوگا۔
بیرونی کائنات تشبیہات اور استعارات کی کائنات ہے، اس کے باطنی مشاہدے سے ہمیں اپنے اندر کی کائنات کے شواہد میسر آتے ہیں۔ شومئی قسمت اگر ہم کرگس کے مقام پر ہیں تو باہر کی دنیا میں ہمیں ہر طرف مردار نظر آئے گا، اگر خوش قسمتی سے شاہین کے ہم صفت ہیں تو بلندیاں نظر آئیں گی، آزاد فضائیں اور خوش کن ندائیں ہماری سماعت و بصارت کی ضیافت کریں گی۔ شاہین ایک آزاد پرندہ ہے، غلامی قبول نہیں کرتا، قصرِ سلطانی کے گنبد پر نشیمن نہیں بناتا، خواہ وہ قصرِ سفید ہی کیوں نہ ہو۔ بھوکا رہے گا، درِ اغیار پر نہیں جائے گا۔ اس کی محرومی پر کئی حاصل قربان!! شاہین تنہا پرواز کرتا ہے۔ اس کے برعکس کرگس غولوں کی شکل میں اترتے ہیں، جہاں مال و مفاد کا ڈھیر دیکھتے ہیں منڈلانے لگتے ہیں، جہاں مردار دیکھتے ہیں ڈھیر ہو جاتے ہیں۔۔۔ ان کا واحد نظریہ، نظریہِ ضرورت ہوتا ہے۔ شاہین سے خصومت رکھنا کرگسوں کی خصوصیت ہے۔ بہرطور استعارے کو شواہد کے طور پر کبھی پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ استعارے سے معانی کشید کرنا مشاہدے پر موقوف ہے، لیکن جن پر مشاہدے کا وقوف ہے، وہ شواہد کے میدان میں بھی میزان میں خسارہ کرنے والوں اور پانے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح چمگادڑ کا وجود منافقت کے استعارے کے طور پر موجود ہے۔ وہ جانوروں میں جانور اور پرندوں میں پرندہ کہلوانے پر بضد ہے۔ اس کی سزا یہ ہے کہ اسے الٹا لٹکا دیا جاتا ہے اور اس کی بینائی سلب کر لی جائے تاکہ وہ سورج کے حق میں گواہی نہ دے سکے۔ اس کا زادِ سفر بصارت کی جگہ فقط سماعت قرار پاتا ہے، وہ سنی سنائی باتوں پر اندھے اعتماد سے چلتا ہے۔ روشنی کا مشاہدہ نصیب ہوتا تو دیکھے بھالے راستوں پر چلتا۔
میزانوں میں پہلی میزان، میزان ِ فکر ہے۔ میدانِ عمل میں اترنے سے پہلے میزانِ فکر پر پورا اُترنا ضروری ہے۔ باطن میں اگر میزانِ فکر متوازی نہ ہو تو خارج میں کوئی فیصلہ متوازن نہیں ہوتا۔ انسان خلطِ مبحث کا شکار ہو جاتا ہے۔ اقلیدس تو دور کی بات سادہ الجبرا بھی اس کی دسترس میں نہیں رہتا۔ کہیں وہ بھینسوں سے بکریاں نکالتا ہے اور کہیں بینگنوں میں آلو جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح وہ الٹا لٹکنے والے پرندے کو ایک دلیلِ معکوس کے ساتھ ممالیہ میں شامل کرنے پر مصر ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کسی الجبرا کے استاد نے اپنے شاگردوں کو کلیہ بتایا کہ یہاں ہم فقط جنس سے جنس ہی نکال سکتے ہیں، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم تین بھینسوں سے دو بکریاں نکالنے کی کوشش کریں۔ اس پر ایک حاضر جواب لیکن فکرِ معکوس پر کھڑا گوالے کا بچہ کہنے لگا ’’لیکن سر! ہم تین بھینسوں سے بیس کلو دودھ تو نکال سکتے ہیں‘‘۔
قصہ مختصر خانہِ دل میں باطن کی روشنی کے بغیر بیرونِ خانہ روشنی صرف واپڈا کی ہوتی ہے جس میں لوڈ شیڈنگ بھی شامل ہے۔ باطن کی روشنی میں ہم اپنا پیمانہ فکر متوازن کرتے ہیں تا آن کہ بیرونِ خانہ پیمائش درست ماپ سکیں۔ اگر پیمانہ ہی مبنی بر نقص ہو گا تو خارج میں پیمائش غلط ہو جائے گی اور بدلے میں ستائش کی جگہ فہمائش ملے گی۔ ظاہر میں جب شواہد خلط ملط ہونے لگیں تو اپنے نہاں خانہ دل سے ایک بار رجوع کیا جائے، میزانِ فکر کو درست کیا جائے اور مقدمہِ فکر کی فائلیں نئے سرے سے کھولی جائیں۔ فکر درست نہ ہو تو ہم حالتِ انکار میں چلے جاتے ہیں۔ فکر اور کفر میں بس ہجوں کی ترتیب ہی بگڑتی ہے۔ کسی بے نقط نکتے کی وکالت ہمیں محرم سے مجرم بنا دیتی ہے۔ ظاہر کی ترتیب بگڑنے لگے تو اس بگاڑ کو بروقت درست کرنے کے لیے باطن سے ترتیب طلب کی جائے۔ باطن کی شاہراہ پر درویشوں کے ڈیرے ہیں۔ جب درویش کی نشاندہی کی جاتی ہے تو یار لوگ خود کو سادہ دل بندے قرار دے کر پوچھتے ہیں کہ کہاں جائیں۔ع
کہ درویشی بھی عیاری ہے اور سلطانی بھی عیاری
پہلی عیاری زیر کے ساتھ ہے اور دوسری زبر کے ساتھ۔۔۔ ہجے درست کر لیے جائیں۔ درویش واقعی عیار ہوتا ہے۔۔۔ جس سے مراد میزان اور کسوٹی ہے۔ معیار اسی عیار سے ہے۔ مردِ مومن کو ہر لحظہ نئی آن اور نئی شان میں دیکھنے والا جانتا ہے:
قُدرت کے مقاصد کا عِیار اس کے ارادے
دُنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان

مصنف کے بارے میں