کورونا صورتحال میں پاکستان نے بہترین حکمت عملی اپنائی، ڈبلیو ایچ او

کورونا صورتحال میں پاکستان نے بہترین حکمت عملی اپنائی، ڈبلیو ایچ او
کیپشن: کورونا صورتحال میں پاکستان نے بہترین حکمت عملی اپنائی، ڈبلیو ایچ او
سورس: فائل فوٹو

اسلام آباد: ڈبلیو ایچ او کے کنٹری سربراہ نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے کورونا صورتحال میں بہترین حکمت عملی اپنائی اور پاکستان ایک روز میں 10 لاکھ کورونا ویکسین لگا رہا ہے۔ 

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے کنٹری سربراہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کورونا ویکسین لگانے میں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے جبکہ ایسے ممالک بھی ہیں جہاں 2 فیصد آبادی کو کورونا ویکسین نہیں لگائی جا سکی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک روز میں 10 لاکھ کورونا ویکسین لگا رہا ہے اور پاکستان کی کورونا ویکسین لگانے کی مہم انتہائی تیز اور مؤثر ہے جبکہ پاکستان میں مکمل ویکسین یافتہ افراد کی تعداد 20 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔

کنٹری سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں جزوی ویکسی نیشن والوں کی تعداد 40 فیصد سے زائد ہو چکی ہے جبکہ دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں ویکسین زیادہ ہونے کے باوجود کورونا کیسز کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستان میں احتیاطی تدابیر کے باعث ویکسین کم ہونے کے باوجود کیسز کم رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے بہترین کام کیا ہے اور پاکستان میں کورونا رسپانس میں بہترین کوآرڈی نیشن رہی ہے۔ پاکستان میں کورونا کے باوجود اموات کی شرح کم رہی اور چوتھی لہر میں ویکسین کے باعث شرح اموات کم ہوئی۔

سربراہ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے ویکسی نیشن کے باعث کسی ہیلتھ ورکر کی موت نہیں ہوئی اور پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاون کی حکمت عملی کے باعث ڈیلٹا کیس میں کمی آئی۔ پاکستان جینومک سیکونسنگ کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں پاکستان میں کورونا سے مزید 42 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد 27 ہزار 524 ہو گئی ہے ۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2 ہزار 60 نئے کیس رپورٹ ہونے کے بعد ملک بھر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 36 ہزار 888 تک جا پہنچی ہے ۔

این سی او سی کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران ملک بھر میں 44 ہزار 958 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جبکہ مثبت کیسز کی شرح 4.58 فیصد رہی ۔ ملک بھر میں اس وقت مجموعی طور پر 4 ہزار 267 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔