سائفر کیس: جسٹس میاں گل حسن کا عمران خان کو فوری ریلیف دینے سے انکار 

سائفر کیس: جسٹس میاں گل حسن کا عمران خان کو فوری ریلیف دینے سے انکار 
سورس: File

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ   نے سائفر کیس میں  بانی پی ٹی آئی کی فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی  ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے اس وقت ہم صرف نوٹس ہی کرسکتے ہیں۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے نوٹس کمرہ عدالت میں وصول کرلیا۔ 

بانی  پی ٹی آئی کی سائفر کیس سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت   اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب  نے کی۔ جسٹس میاں گل حسن نے پوچھا کہ آرڈر کیا ہے جسے چیلنج کیا گیا ہے؟  وکیل عثمان گل نے12 دسمبر کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ 

وکیل عثمان ریاض کا کہنا تھا کہ  قانون میں لفظ کمپلینٹ کا ذکر کیا گیا ،ایف آئی آر کا ذکر نہیں۔ یہ اسپیشل قانون ہے اس کے تحت عدالتی کاروائی ممکن ہے  ۔ جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ آپ کا پوائنٹ کیا ہے ؟ کون سا تقاضا پورا نہیں کیا گیا ؟

بانی پی ٹی آئی کے وکیل کا سائفر مقدمے پر اعتراض کیا اور کہا کہ  سائفر کیس کے ایف آئی آر اور عدالتی فیصلے میں  قانونی سقم موجود ہیں ۔کچھ عدالتی فیصلوں کے حوالے دینا چاہتا ہوں ۔ 

ہماچل پردیش کے عدالتی فیصلے پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ریمارکس دیے کہ اس سے پہلے کہ ہماچل پردیش پہنچ جائے، سائفر مقدمہ کے اندراج میں سقم کیا ہے وہ بتائیں ۔پراسیکیوشن کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد کیس فائل کیا گیا ۔ 

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ درخواست میں ہمارا کیس یہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ایک اسپیشل لا ہے ۔اسپیشل لا ہونے سے اس کے تحت ہونےوالی کارروائی کیلئے بھی خصوصی طریقہ اپنایا جائےگا۔قانون میں لفظ شکایت لکھا ہے نہ کہ ایف آئی آر ۔ 

انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست کی سپورٹ میں کافی سارے عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں ۔ایف آئی آر ہمیشہ سکیشن 154 کے تحت ہوتی ہے ۔ہمارا کیس یہ ہے  حکومت کی منظوری سے ایک کمپلینٹ مجسٹریٹ کے روبرو درج کی جانی چاہیے تھی۔بانی پی ٹی آئی کیخلاف کیس میں ایف آئی آر درج کی گئی ، شکایت مجسٹریٹ کو نہیں بھجوائی گئی ۔ 

بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے سائفر ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا  کی جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے نوٹس ہوں گے۔ آئندہ سماعت پر سائفر ٹرائل سے متعلق تمام ضروری دستاویزات جمع کرائی جائیں۔ 

جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں مجاز افسر براہ عدالت میں کمپلینٹ دائر کرسکتا ہے؟  وکیل عثمان کا کہنا تھا کہ  قانونی طور پر حکومت کا مجاز افسر براہ راست عدالت میں کمپلینٹ دائر کرسکتا ہے۔ اس کیس میں کمپلینٹ کی بجائے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔کیس روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے، 25 گواہوں کا بیان اور 3 پر جرح ہوچکی ،مجموعی طور پر 28 گواہ ہیں ۔عدالت سے استدعا ہے  ٹرائل کو 6،5 دن بعد کیس کی سماعت کرنے کی ہدایت کی جائے  ۔ 

مصنف کے بارے میں