سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کا فیصلہ

سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کا فیصلہ
سورس: File

اسلام آباد: آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کے حوالے سے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ 

آفیشل سکیرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے  چیئر مین پی ٹی آئی کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کے حوالے سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی۔  سائفرکیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمودقریشی  کا ٹرائل جیل میں ہو گا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل حکام نے عمران خان کی سیکیورٹی خدشات کا ذکر کیا ہے اس لیے آئندہ سماعت اڈیالہ جیل میں، اوپن کورٹ میں ہو گی۔ 

فیصلے میں کہا گیا کہ میڈیا اور پبلک کو بھی سماعت میں شرکت کی اجازت ہوگی، پہلے کی طرح فیملی کے 5،5 ممبران کو بھی اجازت ہو گی۔ 

 آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت نے فیصلے میں کہا سائفرکیس کی آئندہ سماعت یکم دسمبر کو ہو گی۔

سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت میں چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کو پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے چیئر مین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کرنے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفر گمشدگی کیس کی سماعت کی۔ چیئر مین اور وائس چیئر مین پی ٹی آئی کے وکلا اور ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹرز  شاہ خاور اور ذوالفقار عباس عدالت کے روبر پیش ہوئے۔چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی عدالت میں موجود تھے۔

عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے والے سے اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ کی جانب سے چیرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنے سے معذرت کر لی۔سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا۔

جیل حکام کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق وہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش نہیں کر سکتے، اسلام آباد پولیس کو اضافی سکیورٹی کیلئے خط لکھا اور بتایا گیا چیئرمین پی ٹی آئی کو سکیورٹی خدشات ہیں۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج دو مختلف معاملات عدالت میں ہیں، امید تھی چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کریں گے لیکن نہیں کیا گیا، البتہ مجھے کچھ تحفظات تھے کہ ہم بہت جلدی میں چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملزم ہے اسکو پیش کرنا جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جیل سماعت کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔  ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جیسے بھی کریں انکو آج چیرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنا ہوگا، کس انٹیلیجنس ایجنسی کی بنا پر یہ کہ رہے کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ 


وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ جب ہم کہتے تھے کہ انکی جان کو خطرہ ہے تو کہتے تھے کہ جیسے بھی ہو پہنچیں۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ جیل سپریڈنٹ کا یا استعفی بنتا ہے یا ان کے خلاف زبردست کاروائی بنتی ہے یا آج دو بجے تک عدالت پیشی کا حکم بنتا ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد جیل حکام کی رپورٹ پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جج ابو الحسنات ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ میں اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا کہ چیئر مین اور وائس چیئر مین کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ 

واضح رہے کہ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پیش کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔

مصنف کے بارے میں