شیریں مزاری کا نام پی سی ایل میں ڈالنا غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار

شیریں مزاری کا نام پی سی ایل میں ڈالنا غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار
سورس: file

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں ڈالنے کا فیصلہ غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شیریں مزاری کا نام پی سی ایل سے فوری نکالنے کا حکم دیے دیا۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ایک ہفتے میں رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔ 

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کی درخواست پر بدھ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے مزاری کی جانب سے پی سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر سماعت کی تھی۔  وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے جب کہ محکمہ پولیس کی جانب سے ایڈووکیٹ طاہر کاظم نے پیش کیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد میں اتنے لوگ ہیں جن کے خلاف فوجداری کارروائی چل رہی ہے تو مزاری کا نام پی سی ایل میں کیوں ڈالا گیا؟ پولیس کونسل نے کہا کہ سابق وزیر کے خلاف سات مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں وہ بیرون ملک سفر نہیں کرتے۔ شیریں مزاری کی طویل سفری تاریخ ہے۔

جسٹس جہانگیری نے کہا کہ یہ درست دلیل نہیں کہ مزاری کی طویل سفری تاریخ ہے اور ان کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں یا کم وسائل والے لوگوں نے بیرون ملک سفر نہیں کیا۔

بعد ازاں جسٹس جہانگیری نے دلائل سننے کے بعد مزاری کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مصنف کے بارے میں