حماس کی غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی ابتدائی منظوری

حماس کی غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی ابتدائی منظوری

دوحہ: قطری وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کی ابتدائی منظوری دے دی ۔

قطر کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ میں جنگ روکنے کی تجویز موصول ہونے پر مثبت جواب دیا، لیکن حتمی معاہدہ ”ہفتے“ے دور ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب حماس  نے  اس تجویز پر ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں کیا۔ قطری ذرائع کاکہنا ہے کہ حماس نے اس تجویز کو مثبت طور پر لیاے، لیکن ہم ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ حماس کو غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے پیرس میں غزہ جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی لیکن اس نے فریقین میں سے کسی کو جواب نہیں دیا۔

حماس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک کسی تجویز پر متفق نہیں ہوئے ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ دھڑوں کو اہم تحفظات ہیں، قطر کا بیان جلد بازی میں آیا ہے جو کہ درست نہیں۔

غیر ملکی میڈیا ذرائع کے مطابق حماس کی جانب سے اس ہفتے ثالثوں کی طرف سے موصول ہونے والی غزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرنے کا امکان نہیں تھا لیکن حماس اسرائیل کی جانب سے جنگ کے خاتمے کا عہد ی یقین دہانی کے بغیر اس پر دستخط نہیں کرے گا۔

طری اور مصری ثالثوں نے اس ہفتے حماس کو پہلی ٹھوس تجویز پیش کی تھی جس میں غزہ میں لڑائی میں توسیع کی روک تھام کی گئی تھی، جس پر گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اتفاق کیا گیا تھا۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ متن کا مطالعہ کر رہی ہے اور جواب کی تیاری کر رہی ہے۔

اسسے قبل حماس کے ذرائع نے کہا تھا کہ حماس پیرس میں ہونے والی میٹنگ کے دوران زیر بحث تین منصوبے پر غور کر رہا ہے، یہ منصوبہ چھ ہفتے کی جنگ بندی اور غزہ کو بھیجی جانے والی امداد میں اضافے سے متعلق ہے، اجلاس میں امریکا، مصر، اسرائیل اور قطر کے نمائندے موجود تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس مرحلے کے دوران اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کے بدلے صرف خواتین، بچے اور 60 سال سے زائد عمر کے بیمار مردوں کو غزہ کے مسلح افراد کے ہاتھوں رہا کیا جائے گا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی افواج کے انخلاء کے بارے میں بات چیت ہوگی اور مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن میں مزید قیدیوں کے تبادلے بھی شامل ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ سے فوج کے انخلاء کو مسترد کرتے ہوئے حماس کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

دوحہ میں قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ پیرس میں ہونے والی ملاقات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، اسرائیلی فریق نے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کی نئی پیشکش کی منظوری دی ہے اور حماس نے بھی اس کا خیر مقدم کیا اور حماس نے بھی اسے مثبت پایا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس بارے میں خوش آئند اطلاع دی جائیگی۔

یاد رہے کہ اب تک اس جنگ میںنومبر کے آخر میںایک وقفہ ہوا جو کہ  صرف ایک ہفتہ تک جاری رہا۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 27,019 افراد شہید اور 66,139 زخمی ہو چکے ہیں۔

مصنف کے بارے میں