شاعر ناصر کاظمی کو مداحوں سے بچھڑے 49 برس بیت گئے

شاعر ناصر کاظمی کو مداحوں سے بچھڑے 49 برس بیت گئے
سورس: File photo

لاہور،عظیم شاعر ناصر کاظمی کو مداحوں سے بچھڑے 49 ویں برسی منائی جارہی  ہے ۔

ناصر کاظمی  8 دسمبر 1925 کو بھارت کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے کم عمر ی میں ہی لکھنا شروع کردیا تھا ۔ 

ناصر کاظمی نے اپنی 47 سالہ زندگی کا بیشتر حصہ چائے خانوں، اور رات کی کہانیاں سناتی ویران سڑکوں پر گزارا۔ اُن کی بہترین نظمیں اور غزلیں انہی رتجگوں کا نچوڑ ہیں۔

ناصرکاظمی نے سچے جذبوں اور احساسات کی بدولت اردو غزل کا دامن ایسے موتیوں سے بھر دیا کہ اردو ادب کی تاریخ میں امر ہو گئے۔ 

ناصرکاظمی کی غزل  نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں، دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا، دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی اور نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں جیسی  غزلوں گا کر کئی گلوکار شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے ۔ 

عہد ساز شاعر کی غزلوں پرمشتمل تین مجموعہ کلام’’ برگِ نے‘‘،’’ دیوان‘‘ اور ’’بارش‘‘ شائع ہوئے۔ ناصر کاظمی کی  نظموں کا مجموعہ ’’نشاط خواب ‘‘ بھی ان کے چاہنے والوں میں خاصا مقبول ہے ۔

ناصر کاظمی نے شاعری میں اپنی لفظیات اور حسیات کے پیمانے رومانوی رکھے اس کے باوجود اُن کا کلام عصرِ حاضر کے مسائل سے جڑا رہا۔

چھوٹی بحر کے خوبصورت پیرائے میں لکھی گئی غزلیں اور منفرد استعارے اُن کی شاعری کو دیگر ہمعصر شعرا کے اُسلوبِ کلام  سے ممتاز کرتے ہیں۔جذبے کی شدت اور اظہار کی سادگی سے نمایاں مقام حاصل کرنے والے ناصر کاظمی دو مارچ 1972  کو دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ ناصر کاظمی  کی شاعری کے جلتے چراغ اب بھی روشنی بکھیر رہے ہیں۔