غیر قانونی بھرتیوں کا کیس : پرویز الٰہی پرفرد جرم عائد نہ ہو سکی، میڈیکل رپورٹ پیش

 غیر قانونی بھرتیوں کا کیس : پرویز الٰہی پرفرد جرم عائد نہ ہو سکی، میڈیکل رپورٹ پیش

لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی پر  پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مکمل نہ کی ہو سکی۔

اینٹی کرپشن عدالت میں سابق وزیر اعلی چوہدری  پرویز الہی اور محمد خان بھٹی سمیت دیگر کیخلاف  پنجاب اسمبلی میں جعلی بھرتیوں کے کیس پر سماعت ہوئی۔ اینٹی کرپشن کورٹ کے جج ارشد  حسین بھٹہ نے  کیس پر سماعت کی۔  

اینٹی کرپشن عدالت نے پرویز الٰہی اور دیگر کیخلاف کیس کی سماعت 18 اپریل تک ملتوی کر دی ، اینٹی کرپشن کورٹ کے جج ارشد حسین بھٹہ نے سماعت کی۔

پرویز الہی کے  10 شریک ملزمان عدالت  میں حاضری کیلئے پیش ہوئے۔محمد خان بھٹی  کو گجرانوالا جیل سے عدالت میں پیش نہ کیا جا سکا۔


ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان پر آج بھی فرد جرم عائد نہیں ہو سکی۔ اڈیالہ جیل حکام نے چوہدری پرویز الٰہی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کر دیا۔

 
میڈیکل رپورٹ  میں کہا گیا ہے کہ  چوہدری پرویز الٰہی بیمار ہیں ان کو آج عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا ہے،پرویز الٰہی اڈیالہ جیل کے  واش روم میں گر گئے تھے جس سے ان کی پسلیاں فریکچر ہوئیں ،چوہدری  پرویز الٰہی کا علاج جاری ہے وہ سفر نہیں کر سکتے۔


میڈیکل رپورٹ  میں مزید کہا گیا کہ ڈاکٹرز نے چوہدری پرویز الٰہی کو  سفر کرنے سے روک رکھا ہے۔

دوران سماعت پراسیکیوٹر  نے بتایا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے مقدمہ کا چالان جمع کرا رکھا ہے،  پنجاب اسمبلی میں گریڈ 17 میں بھرتی ہونے والوں امیدوار ملزمان میں شامل ہیں. پنجاب اسمبلی میں تحریری امتحان میں فیل ہونے والے ملزموں کو گریڈ 17 میں ملازمتیں دی گئیں. 


یاد رہے کہ پرویز الہی اور محمد خان بھٹی سمیت دیگر کیخلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ  پنجاب نے  پنجاب اسمبلی میں جعلی بھرتیوں پر مقدمہ نمبر 09/23 درج کر رکھا ہے۔ بھرتی ہونے والے ملازمین سمیع اللہ ٫ وقاص سرور ٫ دانیال ستار خان٫ طاہر احمد مکی٫ محمد اعجاز ٫ محمد حیدر شفقت ٫ محمد امین، زیب الحسن٫ مختار احمد رانجھا اور محمد عاقف  ملزمان میں شامل ہیں۔ 

مصنف کے بارے میں