کلاسیکل موسیقی کا ایک درخشاں باب بند، استاد حسین بخش گلو انتقال کر گئے

 کلاسیکل موسیقی کا ایک درخشاں باب بند، استاد حسین بخش گلو انتقال کر گئے

لاہور:کلاسیکل موسیقی کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا،نامور کلاسیکل گلوکار حسین بخش گلو لاہور میں انتقال کرگئے۔گلوکاراستاد حسین بخش گلو طویل عرصے سے بیمار تھے۔ ان کی عمر 75 سال تھی۔ حسین بخش گلو کلاسیکی موسیقی کے مشہور شام چوراسی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔استاد حسین بخش گلوپٹیالہ گھرانے کے مشہور و معروف گلوکار استاد نتھو خان کے فرزند تھے جو استاد بڑے غلام علی خان کے بھی استاد تھے۔

نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے برصغیر کے نامور گلوکار استاد حسین بخش خان گلو کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا استاد حسین بخش گلو کے انتقال کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا، ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔نگران وفاقی وزیر کامزید کہنا تھا کہ استاد حسین بخش گلو دنیا بھر میں اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے، ان کے انتقال سے آج کلاسیکل موسیقی کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا۔

ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمرا  نےبھی کلاسیکل گائیک استاد حسین بخش گلو کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے ان کو خراج عقیدت  پیش کیا۔


استاد حسین بخش گلو لائٹ کلاسیکل اور غزل گائیکی پر مکمل عبور رکھتے تھے اور ایک بہت اچھے موسیقار بھی تھے۔وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے علاوہ دنیا بھر میں اپنی گائیکی کے نقش چھوڑ آئے۔حکومت پاکستان نے 14 اگست 2010 میں استاد حسین بخش گلو کو ان کے فن کے اعتراف میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازاتھا۔