اڑھائی ہزار سال پرانے تابوت نے مصری آثار قدیمہ کو چکرا کر رکھ دیا

اڑھائی ہزار سال پرانے تابوت نے مصری آثار قدیمہ کو چکرا کر رکھ دیا

قاہرہ: مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ انہیں 2500 برس قبل دفنائے گئے تابوت ملے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ کا سنیچر کو کہنا تھا کہ انہیں حالیہ ہفتوں میں لکڑی کے سربمہر اور اچھی طرح سے محفوظ 59 تابوت ملے ہیں۔ماہرین کی ٹیم نے ان میں سے ایک سجا ہوا تابوت میڈیا کے سامنے کھولتے ہوئے مردے دکھائے جو کہ ایسے کفن میں لپٹے ہوئے تھے جس پر اجلے رنگوں سے مختلف علامتوں کا استعمال کرتے ہوئے پیغامات لکھے ہوئے تھے۔


یہ تابوت مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں واقع سقارہ کے وسیع و عریض قبرستان سے ملے ہیں۔سقارہ کا یہ قبرستان قدیم مصر کے دارالحکومت میمفس میں موجود ہے اور یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔نوادرات کی سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل مصطفیٰ وزیری کا کہنا تھا کہ 'ہم اس دریافت پر بہت خوش ہیں۔تین ہفتے قبل پہلے 13 تابوتوں کی دریافت کے بعد سے 40 فٹ گہرائی میں مزید تابوت بھی ملے ہیں۔


مصر کے سیاحت اور نوادرات کے وزیر خالد الانانی نے 4 ہزار 700 برس قدیم جوزر کے اہرام سے متعلق بتایا کہ وہاں نامعلوم تعداد میں دفن شدہ مزید تابوت بھی مل سکتے ہیں۔تو آج دریافت کا اختتام نہیں۔ میں اسے ایک بڑی دریافت کا آغاز سمجھتا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ 2500 برس قبل دفنائے گئے یہ تابوت چھٹی سے ساتویں صدی قبل از مسیح کے ہیں۔


سقارہ میں کھدائی سے حالیہ برسوں میں بے شمار نوادرات ملے ہیں، ان میں مسالہ لگے سانپ، چڑیا، کیڑے اور برسوں پہلے مرجانے والے دیگر جانور شامل ہیں۔تابوت کی دریافت مصر میں کووڈ 19 کی وبا کے پھیلاؤ کے بعد سے پہلا بڑا اعلان ہے۔


واضح رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کی طرح مصر میں بھی کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے عجائب گھر اور آ ثار قدیمہ کے مقامات مارچ سے تین ماہ تک بند رہے۔سیاحت اور نوادرات کے وزیر کا کہنا تھا کہ تابوت کو جلد کھلنے والے گرینڈ ایجپشن میوزیم میں لے جایا جائے گا۔