'کوئی محفوظ نہیں، غزہ "بچوں کا قبرستان" بنتا جا رہا ہے'، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل نے جنگ بندی اور فلسطینیوں کی رہائی کا پھر مطالبہ کر دیا

'کوئی محفوظ نہیں، غزہ
سورس: File

نیو یارک: اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کے لیے اپنے مطالبات پر ایک بار پھر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ کوئی جگہ اور کوئی انسان محفوظ نہیں رہا، غزہ بچوں کا قبرستان بنتا جا رہا ہے۔ 

سکریٹری جنرل انتو نیو گوتریس نےصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ غزہ "بچوں کا قبرستان" بنتا جا رہا ہے، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت کےشروع ہونے کے بعد سے 4 ہزار 100سے زیادہ بچےشہید ہو چکے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر چار ہفتوں کے دوران کم از کم تین دہائیوں میں کسی بھی تنازعہ کے مقابلے میں اتنے زیادہ صحافی مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تنظیم کی تاریخ میں کسی بھی تنازعے میں اقوام متحدہ کے اتنے امدادی کارکن بھی نہیں مارے گئے ہیں۔

نیو یارک سٹی میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ"آنے والی تباہی ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی ضرورت کو مزید فوری بناتی ہے۔انہوں نے جنگ بندی اور معصوم مفلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں اسپتال، پناہ گزین کیمپوں، مساجد، گرجا گھروں اور اقوام متحدہ کی سہولیات بشمول پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ غزہ میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کا ڈراؤنا خواب ایک انسانی بحران سے زیادہ ہے۔ "یہ انسانیت کا بحران ہے۔" کوتریس کا کہنا تھا کہ لڑائی میں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

انتونیو گوتریس نے غزہ میں مزید انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت کے بارے میں کہا کہ امداد کی موجودہ سطح ایک  سمندر میں نمک کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ مصر کے ساتھ صرف رفح کراسنگ خلا کو پر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ 


واضح رہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملہ شروع کیا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1 ہزار 400سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی تھی، لیکن اس کے جوابی کارروائی میں اسرائیل کی جانب سے 2.3 ملین سے زیادہ لوگوں کی محصور پٹی پر مسلسل فضائی حملوں کی مہم سامنے آئی جو کہ ابھی تک جاری ہے۔

اسرائیل جارحیت کی انتہا یہاں تک ہے کہ اسرائیلی افواج  نے غزہ کو بھی محاصرے میں لے رکھا ہے، ایندھن، خوراک اور بجلی جیسی اشیائے ضروریہ تک رسائی منقطع کر دی ہے، جبکہ اس کی بمباری سے 1.5 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ 

اسرائیل کے محاصرے کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی میں تناؤ کے باعث غزہ کے 35 ہسپتالوں میں سے نصف سے زیادہ آپریشن معطل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری تا حال جاری ہے جبکہ 7 اکتوبر سے محصور فلسطینی علاقے میں شہادتوں کی تعداد کم از کم 10 ہزار 22تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 152 افراد شہیدہو چکے ہیں۔

مصنف کے بارے میں