پاکستانی خیراتی ادارے ریکارڈ مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے

پاکستانی خیراتی ادارے ریکارڈ مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے
سورس: File

اسلام آباد: پاکستانی روایتی طور پر خیرات دل کھول کر دیتے ہیں لیکن زیادہ تر پاکستانی ٹیکس دینے سے گریز کرتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں خیراتی ادارے  بھی دباؤ محسوس کر رہے ہیں.  38 فیصد مہنگائی کی ریکارڈ مہنگائی کے باعث  خیراتی اداروں کو ملنے والی عطیات میں کمی آگئی۔

ذرائع کے مطابق مہنگائی کے پیش نظر ہر روز ہزاروں پاکستانی  ملک بھر میں پھیلے ہوئے مفت خوراک کی تقسیم کے مراکز میں کھانا کھانے کے لیے آتے ہیں۔ ان افراد کا موقف ہے کہ اگر سیلانی کی طرف سے مفت کھانا دستیاب نہ ہو تو ان کی ساری تنخوا صرف کھانے پر ہی خرچ ہو جائے۔

  سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ریجنل چیئر مینیجر سہیل احمد کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پاکستانی ٹیکس ادئیگی سے گریز کرتے ہیں، ٹیکس کی کم وصولی سے اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچتا ہے جس سے لوگوں کو بقا کے لیے خیراتی اداروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیلانی اپنے مفت کھانے کی روزانہ مانگ میں اضافہ دیکھ رہی ہے لیکن عطیات میں کمی کا سامنا کر پڑ رہا ہے۔

ریجنل مینیجر نے بتایا کہ چند ماہ قبل تک 30 ہزار افراد مفت کھانا کھانے آتے تھے لیکن اب یہ تعداد تقریباً 42,000 تک پہنچ چکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عطیات تو کم ہوئے ہیں لیکن سیلانی نے اپنا کام میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔

 2021 کے گیلپ پاکستان سروے میں تقریباً 76 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہوں نے ایک سال پہلے کسی کی مدد کے لیے رقم دی۔اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس ادا کرنے والے پاکستانیوں کا تناسب ہمیشہ مایوس کن حد تک کم رہا۔ 

ذرائع کے مطابق ملک کا جی ڈی پی تناسب پر ٹیکس 10٪ سے بھی کم ہے ، جس کا مطلب ہے کہ حکومت ٹیکسوں میں معیشت کے سائز کا 10 فیصد سے بھی کم ٹیکس وصول کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر ممالک کو معاشی نمو کو برقرار رکھنے کی ضرورت کے لئے کم از کم 15٪ کے جی ڈی پی تناسب پر ٹیکس وصول کرنا ہوتا ہے.

 اقتصادی محقق علی خضر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زراعت، تجارت، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے شعبے اپنے ٹیکسوں کو کم رکھنے کے لیے سیاسی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹیکس کا ایک پیچیدہ نظام، غیر موثر نفاذ، اور حکومت پر اعتماد کی کمی بھی بہت سے لوگوں کو ٹیکس سے بچنے کا سبب بنتی ہے۔

ریجنل مینیجر احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچنے کے ساتھ، خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے لاکھوں افراد غربت کی نچلی لکیر تک پہنچ گئے ہیں، موجودہ ریکارڈ مہنگائی کے باعث سیلانی جیسے خیراتی اداروں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ریجنل مینیجر سہیل احمد نے کہا کہ مہنگائی کے باعث وہ بہت پریشان ہیں کہ ان کا کام رک سکتا ہے لیکن وہ پوری کوشش کریں گے کے ایسا نہ ہو۔

مصنف کے بارے میں