غزہ میں نسل کشی پر اظہار افسوس، اسرائیلی فوج مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر اسرائیلی استادگرفتار

غزہ میں نسل کشی پر اظہار افسوس، اسرائیلی فوج مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر اسرائیلی استادگرفتار

یروشلم: اسرائیلی فوج مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر اسرائیل کے ہائی سکول استاد  کو گرفتار کر لیا گیا۔ 

برطانوی اخبار کے مطابق اسرائیل نے ایک ہائی اسکول ٹیچر کو غزہ میں شہریوں پر اسرائیلی فورسز کے حملوں کے خلاف بولنے اور فلسطینی لڑکیوں کو جسمانی طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے اور اسرائیلی فوج کو  "بچوں کے قاتل" قرار دینے پر حراست میں لے لیا اور معطل کر دیا۔

اسرائیلی پولیس نے ایک بیان میں کہاایک ہائی اسکول کے استاد کو اس بنیاد پر حراست میں لیا گیا اور اس کی ملازمت سے معطل کر دیا گیا کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں پر فلسطینی خواتین کی عصمت دری کا الزام لگایا اور 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کو جائز قرار دیا۔

برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی استاد اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں غزہ میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس اور فوجی آپریشن پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ  فلسطینی بھی انسان ہیں، غزہ سے ہولناک تصاویر آ رہی ہیں۔سوشل

سوشل میڈیا پوسٹ کمیں  اسرائیلی شہریوں کی کم علمی سے متعلق لکھن کے بعد اسرائیلی استاد کو نوکری سے نکال کر حراست میں لے لیا گیا۔ 

دریں اثناء مغربی یروشلم میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے سامنے ایک ہجوم نے استاد کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے خلاف احتجاج اور اس کی حمایت کا اظہار کیا۔ تاہم بعد میں اسرائیلی پولیس نے ہجوم کو منتشر کردیا۔

واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحانہ مظالم جاری ہیں، 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 23 ہزار 968افراد شہید اور 60 ہزار 582سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

مصنف کے بارے میں