امریکی کانگریس میں پاکستانی عام انتخابات اور جمہوریت پر سماعت مقرر

امریکی کانگریس میں پاکستانی عام انتخابات اور جمہوریت پر سماعت مقرر

واشنگٹن: امریکی ایوان کی خارجہ امور کی مشرق وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا سے متعلق  ذیلی کمیٹی میں پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل پر 20 مارچ سماعت کو سماعت مقرر کر دی گئی۔

امریکی کانگریس نے اس سماعت کو ، ’پاکستان انتخابات کے بعد، ملک میں جمہوریت کے مستقبل کا جائزہ اور پاک امریکہ تعلقات‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا ذرائع کے  مطابق سماعت میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر بھی غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 24 سے زائد کانگریس ارکان نے صدرجو بائیڈن اور وزیرِخارجہ انٹونی بلنکن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کی نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک کہ وہاں کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہوجائیں۔

جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو  اس سماعت کے واحد گواہ ہوں گے۔سائفر تنازع میں ڈونلڈ لو کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے سبب ان کی گواہی اہمیت رکھتی ہے۔

بانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا الزام ہے کہ ڈونلڈ لو نے مارچ 2022 میں واشنگٹن میں اس وقت کے پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے ملاقات کے دوران پی ٹی آئی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی دھمکی دی تھی۔

سماعت میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں کے قانون سازوں کی نمایاں حاضری متوقع ہے۔

مصنف کے بارے میں