پاکستان میں بھارت ، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پٹرول اب بھی سستا ہے: نگران وزیر توانائی 

پاکستان میں بھارت ، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پٹرول اب بھی سستا ہے: نگران وزیر توانائی 

اسلام آباد :نگراں وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان میں خطے کے مقابلے میں پٹرول اب بھی سستا ہے۔ بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت میں پٹرول کی قیمتیں پاکستان سے زیادہ ہیں۔ 

نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اور نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں، ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، واجبات کی وصولی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجلی چوری پچھلے کئی سالوں سے ہو رہی تھی لیکن اسے پکڑا نہیں جا رہا تھا، 10 دن پہلے ہم نے اس کے خلاف مہم شروع کی اور یہ جاری رہے گی،

پاور ڈویژن میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، صوبوں کے تعاون سے ضلعی سطح پر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے بجلی چوروں کے خلاف کارروائی جاری ہے، وزراء اعلیٰ، چیف سیکرٹریز اور پولیس سربراہان کے ساتھ ملاقات میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بجلی چوری اور واجبات کی وصولی کیلئے مہم کو تیز کیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ چوری پکڑنے کے ساتھ ساتھ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی گورننس اور مینجمنٹ کو بھی بہتر بنانا ہو گا، ڈسکوز کے بورڈز اور کچھ ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹو افسران کو بھی تبدیل کیا جائے گا اور اس کا طویل مدتی حل نکالا جائے گا،

اس سلسلہ میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری یا انہیں صوبوں کے حوالے کرنے سمیت جو بھی بہتر ہو گا وہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ بجلی مہنگی ہے، ہماری کوشش ہے کہ صارفین پر کم سے کم بوجھ ڈالیں، کے۔الیکٹرک کا ٹیرف ایک سال سے ایڈجسٹ نہیں ہوا، اس پر بھی نیپرا سے بات کی ہے، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کو بھی لمبی مدت میں کرنا چاہتے ہیں تاکہ صارفین پر بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں گردشی قرضہ بہت بڑا مسئلہ ہے، بجلی چوری ہو رہی تھی، واجبات کی وصولی کم تھی، ڈسکوز کی کارکردگی بھی ایک مسئلہ رہا ہے،

بجلی کے شعبہ کو گردشی قرضہ 2500 ارب روپے اور گیس کے شعبہ کا 2900 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، یہ صورتحال پچھلے 10، 15 سال میں پیدا ہوئی ہے جسے حل نہیں کیا گیا، توانائی کے شعبہ کا 2500 ارب روپے کا مجموعی گردشی قرضہ ہے جس پر ایک ہزار ارب روپے ہم سالانہ سود ادا کرتے ہیں، اس مسئلہ کا بھی جلد حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں تیل و گیس کی پیداوار 10 سال میں کم ہوئی ہے، 2013-14ء کے مقابلہ میں آج ہماری پیداوار ساڑھے تین ارب ڈالر کم ہے، ہم اس حوالے سے پالیسیوں کو تبدیل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس کمپنی کے حکام کو بھی بلایا گیا ہے، ان کے ساتھ بھی مشاورت کرکے معاملات کو بہتر بنائیں گے، موسم سرما کیلئے لوڈ مینجمنٹ پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ صارفین پر کم سے کم بوجھ پڑے، آئی ایم ایف پروگرام کے اندر رہ کر اقدامات کرنا ہیں، معاملات بہتر ہو جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اوگرا کرتی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کی قیمت کو مدنظر رکھ کر رکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں تیل و گیس کی تلاش پر توجہ نہیں دی گئی،

اگر اس پر توجہ دی جاتی تو آج ہمارے پاس وافر تیل ہوتا، ملکی ضرورت کا 70 فیصد پٹرول درآمد کرتے ہیں، سابق حکومت نے پٹرولیم ڈیلر مارجن کے حوالے سے معاہدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت 331، بھارت میں 381، سری لنکا میں 391 اور بنگلہ دیش میں 345 روپے فی لٹر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر انٹر بینک میں 298 روپے پر آیا ہے، اگر ڈالر نیچے نہ آتا تو پٹرول کی قیمت پر منفی اثر پڑتا، ڈالر میں کمی کا فائدہ اگلے ماہ سامنے آئے گا، پٹرولیم مصنوعات چونکہ ہم درآمد کرتے ہیں اس لئے قیمت میں ردوبدل کرنا پڑتا ہے، دنیا بھر میں پٹرول کی جگہ الیکٹرانک وہیکلز کا استعمال عام ہو رہا ہے،

چین میں تمام گاڑیاں بجلی پر چلتی ہیں، ہم نے اس طرف توجہ نہیں دی، اس پر بھی ہم کام کریں گے، ڈالر کنٹرول میں رہا تو آنے والے دنوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث بجلی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، 200 افسران اور اہلکاروں کو فیلڈ سے ہٹا دیا گیا ہے، مزید تبادلے کرنا پڑے تو کریں گے، ایک قانون لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، نگراں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں، بجلی چوری کے خلاف اقدامات کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے، توانائی کے شعبہ میں اصلاحات پر کام کیا جا رہا ہے.

انرجی مکس تبدیل کرنے، گردشی قرضے کے مسئلہ کے حل سمیت تمام اصلاحات پر کام ہو رہا ہے، ماضی میں ان سب معاملات پر کام اس لئے نہیں ہوا کہ سیاسی عزم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ گیس لوڈ مینجمنٹ گذشتہ سال کی طرح یا پھر اس سے بہتر ہو، ایل این جی 3700 روپے فی یونٹ کے حساب سے منگواتے ہیں اور صارفین کو 1100 فی یونٹ میں فراہم کی جاتی ہے اور سالانہ ساڑھے تین سو ارب روپے کا نقصان برداشت کرتے ہیں، اگر ٹرمینل زیادہ ہوتے تو پھر گیس بھی زیادہ درآمد کی جا سکتی تھی، ایل این جی کارگوز کی درآمد کیلئے بات چیت چل رہی ہے، روپے کی قدر میں بہتری کے نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم برآمد کنندگان اور صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ صنعتوں کا پہیہ چلے گا تو ملک ترقی کرے گا، گھریلو صارفین میں اکثریت غریب افراد کی ہے، اس وقت گھریلو صارفین کے ایک کروڑ کنکشنز ہیں اور کل پانچ کروڑ افراد پائپ لائن کے ذریعے گیس حاصل کرتے ہیں، امیر طبقہ سستی گیس حاصل کرتا ہے جبکہ غریب طبقہ سلنڈر کے ذریعے مہنگی گیس حاصل کرتا ہے اس معاملہ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، غریب طبقہ پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا لیکن امیر و غریب کو گیس کی فراہمی میں فرق اور ناانصافی کو ختم کرنا ہو گا،

ایک کروڑ میں سے 60 لاکھ کنکشن شہروں میں غریب طبقہ استعمال کرتا ہے، کوشش ہے کہ اس پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں لاسز 589 ارب روپے ہے، ان میں پانچ اچھی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لاسز 155 ارب روپے اور پانچ کم کارکردگی والی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لاسز 434 ارب روپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء کی پالیسی کے تحت جو آئی پی پیز لگائے گئے ان کی کیپسٹی پیمنٹ 2 ہزار ارب روپے ہے، اس سلسلہ میں اگر کوئی بھی قدم سرمایہ کاروں کے مشاورت کے بغیر اٹھایا جائے تو پھر سرمایہ کار ملک سے چلے جاتے ہیں

کیونکہ ان منصوبوں میں مالیاتی اداروں کا قرضہ بھی شامل ہوتا ہے، بجلی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، نگراں حکومت توانائی کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے رہی ہے، ملک میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے پالیسی مرتب کرنا ہو گی۔

مصنف کے بارے میں