تاریخ کا سبق…

تاریخ کا سبق…

ایک عہد تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ شخصیات تاریخ کی تعمیرو تشکیل کرتی ہیں،اور سماجی تبدیلیاں انکے افکاراور تعلیمات کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوتی ہیں،اسی نقطہ نظر نے تاریخ میں’’ ہیرو شپ‘‘ کے تصور کو عام کیا،اسکی بدولت تاریخ لکھتے وقت شخصیات کو مرکز بنا کر واقعات کو بیان کیا گیا،مورخین کے حلقوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا، کہ حالات شخصیات کو پیدا کرتے ہیں یا شخصیات تاریخ بناتی ہیں،اس بحث کے نتیجہ میں جوشواہد ملے اور جو دلائل دیئے گئے وہ یہ تھے کہ شخصیات خلاء میں پیدا نہیں ہوتیں ،نہ ہی نظریات اور افکار اچانک دماغ میں آتے ہیں،سب کچھ حالات کے دبائو کانتیجہ ہوتا ہے، زمانہ شخصیات کو پیدا کرتا ہے بعد ازاں یہ زمانہ پر اثرا انداز ہوتی ہیں۔ہر تاریخ ایک خاص ماحول اور زمانے میں لکھی جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ابتدائی دور میںمورخین کی بڑی تعداد بادشاہوں کے درباروں سے وابستہ تھی، اس لئے تاریخ لکھنے والے عمومی طور پر درباری ملازم ہی ہوا کرتے تھے،یہ کبھی بھی حکومت اور حکمران پر تنقید نہیں کرتے تھے،ان واقعات اور حالات کا انتخاب کرتے کہ ہر صورت میں انکے کردار کا روشن اور اچھا پہلو سامنے آئے،دوسری طرف ایسی تاریخیں بھی ملتی ہیں جو ان مورخین نے لکھیں جو حکمرانوں کی سر پرستی سے محروم رہے جو مذہبی عالم بھی تھے،لیکن انکی تاریخوں کا کمزور پہلو یہ بھی تھا کہ انھوں نے تاریخ کو بطور وعظ پیش کیا اور جہاںموقع ملا  علماء صوفیاء کی شخصیتوں کو بڑھا چڑھا کر دنیا کے سامنے رکھا۔
کہا جاتا ہے کہ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ ضرور دیکھا جاتا ہے کہ کس عہد کس زمانے اور کن حالات میں تاریخ لکھی گئی ، اس کا مطالعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے،تاریخ ہی سے پتہ چلتا ہے کہ معاشرہ کن وجوہات پر ترقی کرتا ہے،کون سے عوامل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں،تاریخ کی افادیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ معاشرہ کی یاداشتوں کو مجموعی طور پر محفوظ کرتی ہے نیز یہ معاشرہ میں آگاہی کا بھی احساس پیدا کرتی ہے تقابلی جائزہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دیگر سماج کے مقابلہ میں وہ کس مقام پر کھڑے ہیں۔
البتہ تاریخی عمل اور وقت کی تبدیلی کی بدولت اخلاقی اقدار،روایات،ثقافتی اور سیاسی ادارے بھی بدل جاتے ہیں۔جس میں بڑا کردار ایجادات کا بھی ہوتا ہے۔لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ تاریخ کا علم 
اس وقت تک اپنی افادیت قائم نہیں رکھ سکتا جب تک یہ معاشرے کی اقدار، روایات اور اداروں کا تنقیدی جائزہ نہ لے اور تبدیلی پر نظر نہ رکھے، تاریخ نہ صرف ماضی کے خدوخال کو عیاں کرتی ہے بلکہ موجودہ صورت حال کا بھی تعین کرتی ہے۔
ہر عہد کی تاریخ کوعوام کے سماجی حالات سے مربوط کر ناضروری ہے ،جس تاریخ میں عوام کے حالات سے آگاہی نہیں ہوتی، اسکو مورخین نامکمل تصور کرتے ہیں۔مثلاً نو آبادیاتی دور میں برصغیر کی تاریخ کو سامراجی مقاصد کے تحت مسخ کیا گیا،تاریخ کو اس انداز میں پیش کیاگیا کہ اپنے ماضی سے نفرت ہوجائے اور سامراج کی حکومت ایک نعمت کی شکل میں دکھائی دے،اس سے یہ بھی ثابت کرنے کی کاوش کی گئی کہ ہندوستانی ریاستوں کے حکمران نااہل اور نالائق تھے ،انکے دور حکومت میں سیاسی ابتری تھی ، اس لئے برطانوی اقتدار غنیمت تھا،1857 کی جنگ آزادی پر تواریخ تاج برطانیہ کے عہد میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے لکھوائیں، ان میں انگریزوں کی فتوحات اور سیاسی اقتدار کو جائز قرار دیا گیا۔جیسے برصغیر میں درباری مورخ تاریخ لکھا کرتے تھے۔
بعض مورخین کا الزام ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہم نے تاریخ کے علم کو محض ماضی کی سیاست تک محدود رکھا اور نو آبادیاتی نقطہ نظر کی جگہ نیا اور جاندار نظریہ پیش نہ کر سکے،پاکستان میں تاریخ پر کام بہت ہی کم ہوا ہے۔اگر لکھا بھی گیا تو تاریخ کو خاص نقطہ نظر سے۔کہاجاتا ہے کہ جب ہم عصر مورخ تاریخ کو مسخ کر کے لکھتے ہیں تو آنے والے تاریخ دان کے لئے مشکل ہو جاتی ہے کہ وہ تاریخ کو حقیت پسندی کے ساتھ تشکیل کر سکے۔تاریخ کا وسیع تناظر میں مطالعہ نہ کرنے سے ہم عالمی صورت حال  اور بڑی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے بے خبر رہتے ہیں،حتیٰ کہ اپنے ملکی حالات سے بھی صحیح طور پر آگاہ نہیں ہوتے، جب سقوط ڈھاکہ ہوا تو ہمارے عوام آخری وقت تک وہاں کے حالات اور قیام پاکستان کے بعد معاملات سے بے خبر رہے اس لئے انھیں بنگال کی جدائی کا بڑا دھچکا لگا۔
مورخین کا ماننا ہے کہ تاریخ کے ذریعہ دوسری اقوام اور معاشروں میں ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے، انسانی معاشرہ کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے معیار پردوسروں کے اخلاق ،مذہب اور طرز معاشرت کو دیکھتا ہے، جب اس میں تضاد نظر آتا ہے تو  اسکی تاریخی اہمیت سمجھے بغیر اسے غلط قرار دیتا ہے، اس لحاظ سے مطالعہ تاریخ سے تعصب، نفرت نہ صرف دور ہوتا ہے بلکہ اذہان کو وسعت ملتی ہے،لیکن جو حکمران یا اقوام شکست کھا جاتی ہیں تاریخ میں وہ اپنا جائز مقام حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔
سماجی علوم کے ماہرین تاریخ کو بطور مضمون خاص اہمیت دیتے ہیں، اس کا مطالعہ ماضی کی اقوام کی تہذیب، کلچر، رہن سہن،روایات،مذہب،زرعی ، جنگی آلات کا پتہ دیتا ہے، اقوام کے عروج و زوال کی داستانیں بھی تاریخ میں ملتی ہیں۔
ہمارے ہاںتاریخ جس انداز سے لکھی جاتی ہے، اس میں سیاسی واقعات، حادثات کو ہی اہم اور انقلابی سمجھا جاتا ہے،اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ان واقعات کے نتیجہ میں تاریخ کا رخ بدل گیا، اور معاشرہ میں بنیادی تبدیلیاں آئیں، آپ 9/11 کے واقعہ ہی کو دیکھ لیں، کس طرح اسکی آڑ میں مسلم کیمونٹی کو تختہ مشق بنایا گیا جب حقائق سامنے آئے تو بہت مختلف تھے۔
دنیا کے مورخین سے تاریخ رقم کرنے میں کوئی نہ کوئی مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے، لیکن قرآن کا اعجاز یہ ہے اس میں رقم اقوام کی تاریخ ان کے عروج و زوال اس میں رہتی دنیا تک محٖفوظ ہیں،جس میں ان اسباب کو واضع کیا گیا ہے کہ کوئی قوم ان خرافات کا اعادہ آج بھی کرے گی تو اس کا انجام بھی وہی ہو گا جو پہلی اقوام کا ہوا ہے،قرآن کا معجزہ یہ بھی ہے کہ جس خطہ میں نزول ہوا وہاں مختلف قبائل آباد تھے ،یہ اپنے علاقہ جات میں نہ صرف خود مختیار تھے،بلکہ ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں تھے، قرآن نے ان متحارب گروہوں کو ایک امت میں بدل دیا۔اہل عرب نے دنیا کی عظیم سلطنت قائم کی۔ 
مورخین کے لئے بھی اس میں سبق ہے کہ وہ تاریخ لکھتے وقت معاشروں کو تقسیم کرنے کی بجائے انھیں باہم متحد کرنے میں اپنی صلاحتیں صرف کریں،تعصبات کو ہوا نہ دیں، کسی مذہب، رنگ ،نسل کودنیا میں اچھوت بنا کر پیش نہ کریں تاکہ ہر قاری کے لئے اس کا مطالعہ خیر کا باعث ہو۔
قرآن انسان کو متوازن زندگی گزارنے کا شعور دیتا ہے، وہ انسان سے بار بار سوال بھی کرتا ہے کہ تم کدھر جارہے ہو، کیا تم نے اپنی زندگی اور ماحول پر غور کیا ہے، اس دنیا کا امن اجتماعی عدل سے عبارت ہے،  راہنماء اصول قرآن نے اقوام کی تاریخ کے تناظر میں بیان کر دیئے قرآنی تاریخ میں ان اقوام اور شخصیات کا تذکرہ ہے جنہوں نے انصاف اور شکر کیا اورجو ظلم اورناشکری کرتی رہیں،اس آئینہ میں ہر قوم اور شخص اپنا چہرہ دیکھ سکتاہے، یہی تاریخ کا سبق ہے۔

مصنف کے بارے میں