بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں، ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے تنقید کااثر لیں گے تو حلف کی خلاف ورزی ہو گی: جسٹس اطہر من اللہ

بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں، ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے تنقید کااثر لیں گے تو حلف کی خلاف ورزی ہو گی: جسٹس اطہر من اللہ
سورس: file

اسلام آباد:  سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدلیہ کو گھبرانا چاہیے نہ خائف ہونا چاہیے, سوشل میڈیا کا ججز پر اثر نہیں ہونا چاہئے، تنقید کرنے والا بھی اسی عدالت پر اعتماد کرے تو یہ عدلیہ کا امتحان ہے،  ہم جواب دہ ہیں، جج کو کڑی تنقید پر گھبرانا نہیں چاہئے۔ 

سپریم کورٹ میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پاکستان کی آدھی تاریخ ڈکٹیٹرزشپ میں گزری، آغاز سے آزادی اظہار رائے پر قدغنیں لگیں۔ڈکٹیٹرشپ میں آزادی اظہار رائے ممکن نہیں، اظہار رائے کے لیے صحافیوں کا کلیدی کردار رہا، کورٹ رپورٹرز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اظہار رائے بہت بڑی چیز ہے، اسے دبانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، ریاستیں اظہار رائے کو قابو نہیں کرسکتیں۔  1971 میں مغربی پاکستان کے لوگوں کو مختلف تصویر دکھائی گئی، 75 سال تک سب کو پتا تھا سچ کیا ہے لیکن اسے دبایا گیا، ہم سچ کو دباتے دباتے کہاں پہنچ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ سچائی خود سامنے آجاتی ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہیے کہ کہاں جا رہے ہیں، ہم مرضی کے فیصلے، مرضی کی گفتگو چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا  کہ جج بنا تو پہلا کیس ضمانت کا آیا,  بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں,  ہم اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتے۔ 

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جج کو آزاد ہونا چاہیے،  سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے, جج پر جتنی تنقید ہو وہ اثر نہ لے، کوئی جج تنقید کا اثر لے گا تو وہ حلف کی خلاف ورزی کرےگا.

انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ پر تنقید 2 قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ تنقید کہ جب الزام لگایا جاتا ہے کہ کوئی دانستہ فیصلے ہو رہےہیں، ایک وہ تنقید ہے جسے میں پسند نہیں کرتا کہ ریلیف کیوں ملا، تنقید ہر کوئی کرے لیکن عدلیہ پر اعتماد بھی کرے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہمیں اپنی تاریخ سے سیکھنا ہوگا، اظہار رائے پہچانا جاتا تو ملک دولخت نہ ہوتا، نہ لیڈر پھانسی چڑھتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حل صرف آئین پر عمل میں ہی ہے، آئین پر عمل کرکے ہم عظیم قوم بن سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں