بالاچ دہشت گرد تھا،ایسے لوگوں کیلئے مارچ سمجھ سے بالاتر ہے: سی ٹی ڈی بلوچستان 

بالاچ دہشت گرد تھا،ایسے لوگوں کیلئے مارچ سمجھ سے بالاتر ہے: سی ٹی ڈی بلوچستان 

کوئٹہ : بلوچستان میں دہشتگردی اور دہشتگردوں کے  لئے ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کے احتجاجی مظاہرے کی حقیقت سامنے آگئی ۔سی ٹی ڈی بلوچستان کا کہنا  ہے کہ  رواں سال بی ایل اے اور بی ایل ایف کی تربت میں 158دہشتگردانہ کارروائیوں کے دوران66معصوم افراد شہید اور 30سے زائد زخمی ہوئے۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اسی سلسلے میں کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان (CTD)نے ایک ماہ کے دوران مختلف خفیہ آپریشنز کے دوران 8انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو گرفتار کیا۔ 20نومبر2023کو انتہائی مطلوب دہشتگرد  ”بالاچ ولد مولا بخش“ کو بھی گرفتار کیا گیا۔

سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے وقت دہشتگرد بالاچ سے5کلو گرام بارودی مواد برآمد ہوا۔یہ بارودی مواد تربت شہر میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں استعمال ہونا تھا۔  22اور23نومبر کی درمیانی شب دہشتگرد بالاچ کی پسنی کے قریب خفیہ جگہ کی نشاندہی پر آپریشن کیا گیا جہاں پر مزید دہشتگرد چھپے ہوئے تھے۔ 

سی ٹی ڈی بلوچستان کے مطابق اس آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں دہشتگرد بالاچ جہنم واصل ہوا ۔دہشتگرد بالاچ ولد مولا بخش کلاتی بازار ابسر، تحصیل تربت ضلع کیچ، بلوچستان کا رہائشی تھا ۔دوران تفتیش بالاچ نے بی ایل اے میں شمولیت اور ٹریننگ سے متعلق تمام تفصیلات بھی  بتائیں ۔دہشتگرد بالاچ متعدد معصوم افراد کی ٹارگٹڈ کلنگ میں ملوث تھا ۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ  گرفتاری کے بعد دہشتگرد بالاچ نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا جس کی تفصیلات ایف آئی آرز میں موجود ہیں ۔ اسی طرح ایک اور دہشتگرد راشد حسین بروہی جو چینی قونصلیٹ پر حملے میں ملوث تھا اور ملک سے فرار ہو کر متحدہ عرب امارات چلا گیا۔

سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ راشد حسین کو بے گناہ بنا کر انسانی حقوق کے چیمپئنز27نومبر کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے گمشدہ سماجی کارکن کے طور پر پیش کر ر ہے تھے  ۔درحقیقت راشد حسین بروہی کو شارجہ سے26دسمبر2018کو اماراتی انٹیلی جنس ایجنسی نے گرفتار کیا۔ امن دشمن بھارت نے طویل عرصے تک پاکستان بالخصوص بلوچستان کے کچھ نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے مضموم عزائم کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ 

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ پاکستان دشمن عناصر کے بہکاوے میں آکر دہشتگردی کی راہ پر چلنے والے بلو چ عسکریت پسندوں کو احساس ہو چکا ہے کہ اُن کی آئندہ نسلوں کی ترقی پاکستان کی بقاء میں مضمر ہے۔ دہشتگرد گلزار امام شمبے اور سرفراز بنگلزئی کی ریاستی اداروں کے آگے ہتھیار ڈالنے اور قومی دھارے میں شمولیت کی مثالیں بھی عوام کے سامنے ہیں جنہوں نے بھارت کی بلوچستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کو بے نقاب کیا ہے ۔ ایسے دہشتگردوں کے لئے ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ عام فہم سے بالاتر ہے۔

بلوچ یکجہتی کونسل کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جو عبدالغفار لانگو کی بیٹی ہے اور جس کے والد بی ایل اے  کا سرغنہ اور ریاستی اداروں پر لاتعداد حملوں میں ملوث تھا۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے نہ صرف ریاستی وظیفے پر تعلیم حاصل کی بلکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سے اب تک وہ سرکاری تنخواہ کے ساتھ ساتھ متعدد مراعات سے بھی استفادہ کر رہی ہیں ۔ 

جب ہم اس احتجاج کا پسِ منظر دیکھتے ہیں تو یہ بات پھر سے واضح ہوجاتی ہے کہ دہشتگرد بالا چ کی گرفتاری قانونی قواعد و ضوابط کے مطابق ہو ئی جس کی تفصیلات ایف آئی آر میں درج ہیں ۔ایسے احتجاج کا مقصد صرف اور صرف عوام کو گمراہ کرکے حقائق پر پردہ ڈالنا ہے۔

سوال یہ ہے کہ”یہ احتجاج معصوم عوام کے لئے  ہے   یا   دہشتگردوں کی پشت پناہی کے لئے کیا جا رہا ہے؟“اہم سوال تو یہ بھی ہے کہ؛مرنے کے بعد دہشتگرد بالاچ کی  لاش کو  ”دہشتگرد تنظیم بی ایل اے“  کے پرچم میں کیوں لپیٹا گیا؟

اسی سلسلے میں ایک ممبر یورپین پارلیمنٹ کے ایک بھارتی سپورٹر رکن نے ماہ رنگ بلوچ کے مظاہروں کی حمایت میں ایک قراردادبھی چند گھنٹوں میں پیش کی۔ یہ رُکن لیبر فرینڈز آف انڈیا کا بھی ممبر ہے جس کا مقصد بھارتی ایجنڈے کو فروغ دینا ہے۔اس بے بنیاد احتجاجی مظاہرے کے پیچھے بھی بھارتی پشت پناہی ثابت ہو تی ہے۔ 

مصنف کے بارے میں