اداروں  سے بات کرنا چاہتے ہیں، سانحہ 9 مئی میں ملوث افراد کو عام معافی دی جائے، مقتدر حلقے ہمیں وہاں نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو: چیئرمین پی ٹی آئی

اداروں  سے بات کرنا چاہتے ہیں، سانحہ 9 مئی میں ملوث افراد کو عام معافی دی جائے، مقتدر حلقے ہمیں وہاں نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو: چیئرمین پی ٹی آئی
سورس: File

واشنگٹن : پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کہتے ہیں کہ انتخابی عمل کے آغاز کے باوجود پی ٹی آئی کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں نرمی نہیں ہوئی۔ مقتدر حلقے کو ادراک ہونا چاہیے کہ اب بہت ہو گیا، ہمیں ایسی جگہ نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے وائس آف امریکا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ہر حکمران اور آمر کی طاقت نے بلآخر ختم ہو جانا ہے۔ لیکن اس ملک، عوام اور جمہوریت نے رہنا ہے اگر اس بات کا احساس ہو گیا تو اختلافات بھلا کر آگے بڑھ سکیں گے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ادارے اور سب سے مقبول جماعت آپس میں دست و گریباں ہوں۔ اس طرح کے حالات میں جمہوریت و ملک کی بہتری نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی چھینے گئے۔ گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ لیکن اس کے باوجود احتجاج کی کال نہیں دی اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ الیکشن آٹھ فروری کو ہو رہے ہیں۔ ہمیں اس انتخابی عمل سے باہر نہ کیا جائے۔

انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا انتخابی نشان چھن جانے سے پہلے ہی بہت نقصان ہو گیا ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 227 مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو نہیں مل سکیں گی۔ پی ٹی آئی کا ایک انتخابی نشان نہ ہونے کی بنا پر آزاد حیثیت میں جیتنے والے تمام اراکین اسمبلی بھی اگر الیکشن کے بعد پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں۔ تو بھی مخصوص نشستیں نہ ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کو وزیرِ اعظم کے انتخاب، صدر کے انتخاب اور سینیٹ الیکشن میں بہت بڑا نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عام انتخابات ہونے والے ہیں تو اختلافات کو بھلاتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ نہیں تو تیسری قوت کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ حکومت کے خاتمے کے بعد جتنی زیادتی پی ٹی آئی کے ساتھ ہوئی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ پی ٹی آئی قیادت جیل میں ہے یا زیر زمین ہے اور ایک ایک رہنما پر کئی کئی پولیس مقدمات کا مقصد یہ ہے کہ انہیں کسی طریقے سے سیاست باہر کیا جاسکے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس کا ذکر کر رہے ہیں؟ تو جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کچھ ادارے ان کی جماعت کے خلاف رہے ہیں اور مخالف جماعت کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر الیکشن کمیشن نے صرف ان کی جماعت کے انٹرا پارٹی انتخابات کا مقدمہ چلایا۔ صرف ان کی جماعت کی غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جہاں سے بھی طاقت کا استعمال ہو رہا ہے اسے ختم ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کو دیوار سے نہیں لگانا۔ اس سے جمہوریت، معیشت اور عوام ہار جائیں گے۔ پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان عدم اعتماد رہا ہے۔ اسے دور کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ شفاف انتخابات اور آگے بڑھنے کے لیے کسی سے بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں تاکہ عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے جسے منتخب کریں وہ حکومت کرے۔

اداروں سے رابطے کے حوالے سے پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ انہوں نے رابطہ کیا ہے، نہ ہی اداروں کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ ان کی نظر میں اگر آگے بڑھنا ہے تو کچھ بات چیت کرنا ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی انتشار کے ماحول کو ختم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے تو ریاست پی ٹی آئی کو انتخابات میں حصہ لینے کا ماحول مہیا کرے۔ سرکار، عدلیہ اور الیکشن کمیشن ہمیں آسانی دیں تو ماحول بنے گا اور آگے بڑھیں گے۔ 

بیرسٹر گوہر علی خان کہتے ہیں کہ عمران خان یا تحریکِ انصاف نے آرمی چیف کے تقرر کے عمل کو متاثر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس حوالے سے پارٹی رہنماؤں کے بیانات ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے۔ 

تحریکِ انصاف کے چیئرمین کہتے ہیں کہ آج تک اگر کسی نے آرمی چیف کی تقرری کے عمل کو متنازعہ بنایا ہے تو وہ نواز شریف ہیں جنہوں نے فوج کے سربراہ سے یا تو استعفی لیا یا اختلافات کے نتیجے میں حکومت کا خاتمہ ہوا۔

اس سوال کہ کیا پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی عمران خان کے ہاتھ میں ہوتے ہوئے فوج سے صلح ہوسکتی ہے؟ کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے فوج سے کوئی جھگڑا نہیں کیا اور اس غلط تاثر کو انہوں نے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔مجھے سپریم کورٹ پر اعتماد ہے۔ 

 انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو اتنی بڑی سزا نہیں دی جانی چاہیے تھی کہ اس سے انتخابی نشان ہی چھین لیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود ہم کسی جج پر عدم اعتماد ظاہر نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی نہیں چاہے گی کہ الیکشن کے بعد تنہا چلے بلکہ کوشش ہوگی کہ سب کے ساتھ مل کر ملک کی بہتری کے لیے کام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے شفاف انتخابات کے ایک نقطے پر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی خواہش ظاہر کی تھی اور مستقبل میں بھی معیشت و دہشت گردی کے عنوانات پر ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

اس سوال کہ آپ کا پلان 'اے' اور 'بی' ناکام ہوگیا ہے تو پلان 'سی' کیسے کامیاب ہوگا؟ کے جواب میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ اب ہم نے بھی سبق سیکھ لیا ہے کہ یہ چھوڑتے نہیں ہیں اور ہم ہار مانتے نہیں اور جو ہار نہیں مانتا وہ جیت جاتا ہے۔

بیرسٹر گوہر کہتے ہیں کہ نو مئی کے واقعات کے الزام میں پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کو عام معافی مل جائے تو بہتر ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے سزا ہونی چاہیے لیکن اس ضمن میں پی ٹی آئی کے خدشات دور کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ الزامات کی پہلے تحقیقات ہونی چاہیے اور عدالتی کمیشن کے ذریعے ان کی تصدیق کے بعد گرفتاریوں اور سزاؤں کا تعین کیا جائے۔ عدالتی کمیشن اور تحقیقات میں جو ملوث پایا جائے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس ایک واقعے کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو توڑا نہ جائے۔ پی ٹی آئی بطور جماعت ایسی کسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے جو ریاست یا پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہو۔