امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار کی منتقلی کا کڑوا گھونٹ پینے کو تیار

US President Donald Trump is ready to take a bitter sip of the transfer of power
کیپشن: فائل فوٹو

 نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار کی منتقلی کا کڑوا گھونٹ پینے کو تیار، کئی ہفتوں کی ٹال مٹول کے بعد نو منتخب صدر جوبائیڈن کو اختیارات منتقل کرنے کو تیار ہوگئے، قانونی جنگ جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیدیا۔ محکمہ جنرل سروس ایڈمنسٹریشن نے جوبائیڈن کو فیصلے سے آگاہ کر دیا۔

دوسری جانب نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی انتطامی ٹیم تشکیل دینا شروع کر دی، انٹونی بلنکین کو وزیر خارجہ، محکمہ داخلی سلامتی کیلئے کیوبن نژاد امریکی الیجانڈرو مایورکس، جیک سلیوین قومی سلامتی کا مشیر اور لنڈا تھامس گرین فیلڈ کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نامزد کر دیا۔اس کے علاوہ سابق وزیر خارجہ جان کیری کو نمائندہ خصوصی برائے ماحولیات نامزد کیا۔

امریکی ٹی وی کے مطابق اقتدار کی منتقلی پر رضا مندی صدر ٹرمپ کی شکست تسلیم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے، 20 جنوری کو حلف برداری کی تقریب کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ جو بائیڈن کو اقتدار منتقل کریں گے۔یاد رہے کہ چین سمیت زیادہ تر بڑے ملکوں نے جوبائیڈن کو امریکا کا نیا صدر منتخب ہونے پر مباکباد دیدی ہے۔

لیکن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ وہ ابھی جوبائیڈن کو بطور امریکی صدر تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔روسی صدر پیوٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے کسی بھی رہنما کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں جس پر امریکی عوام کا اعتماد ہے، انہوں نے کہا کہ اعتماد اُسی امیدوار کو حاصل ہوگا جس کی جیت کی قانونی طریقے سے تصدیق کی گئی ہو۔

پیوٹن نے مزید کہا بائیڈن کو مبارک باد نہ دینے سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے ہی بدترین سطح پر ہیں۔