کوئی نویں گل نئیں!

 کوئی نویں گل نئیں!

مجھے پورا یقین تھا وطن عزیز کا ’’ممتاز ماہر کہہ مکرنی‘‘ اپنی اس بات سے بھی مکر جائے گا کہ توہین عدالت کے معاملے میں وہ حق پر ہے وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس نے کوئی بات خلاف قانون یاخلاف آئین نہیں کی جس پر وہ معافی مانگے۔اب  انہوں نے معافی مانگ لی ہے اور عدلیہ نے بھی یقیناً شکر ادا کیا ہو گا اسے زیادہ بڑے امتحان سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔ کوئی شخص غلطی کرے اور اس پر شرمندہ ہونے یا معافی مانگنے میں دیر کرے اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے وہ خوشی یا شرمندگی سے نہیں کسی مصلحت یا مجبوری کے تحت معافی مانگ رہا ہے۔ خان صاحب کی معافی سے پہلے ایک معافی موجودہ حکمرانوں کی بھی خان صاحب سے یہ بنتی تھی کہ انہوں نے توہین عدالت کیس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کر دیں۔ سیاسی حکمرانوں کا اپنا کوئی ضمیر اپنی عقل ہونی چاہئے مگر عقل کے یہ اندھے اصلی حکمرانوں کے ہر جائز ناجائز احکامات پر آنکھیں بند کرنے کے عمل کو ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ یہ ’’اعزاز‘‘ اپنے پونے چار سالہ اقتدار میں خیر سے ہمارے خان صاحب بھی بارہا حاصل کرتے رہے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو رانا ثناء اللہ پر جو جھوٹا کیس بنایا گیا تھا اس پر بھی کھل کر معافی مانگ لی جاتی۔ اپنی غلطیوں کا کھلے لفظوں میں اعتراف یا ان پر معذرت ہمیشہ ’’بڑے لوگ‘‘ کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ’’چھوٹے اور جھوٹے لوگ‘‘ معذرت ہمیشہ اس وقت کرتے ہیں جب انہیں کسی نقصان کا اندیشہ ہو یا جب انہیں یقین ہونے لگے معذرت نہ کرنے یا معافی نہ مانگنے سے ان کی ذاتی مفادات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ خان صاحب نے معافی مانگنے میں دیر کر کے بڑے پن کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ کام انہیں توہین عدالت کیس میں پہلی تاریخ پر ہی کر لینا چاہئے تھا۔ میرے سچ لکھنے پر اب وہ شاید ہمیشہ کے لئے مجھ سے روٹھ چکے ہیں، جب ان سے ایک تعلق اور رابطہ تھا میں تقریباً ہر ملاقات میں ان کی خدمت میں یہ عرض کرتا تھا۔ آپ ہر معاملے میں مردے کی طرح اکڑ نہ جایا کریں۔ زندہ لوگوں میں لچک ہونی چاہئے ۔ سیاست میں اتنا سخت رویہ ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے یا پھر آپ نے دوسروں سے مختلف سیاست کرنی ہے تو اس عمل میں ’’ڈنڈی‘‘ نہ ماریں۔ یہ کیا ہوا کہ جب آپ کا کوئی مفاد ہوا آپ دوسروں سے مختلف سیاست کرنے لگتے ہیں اور جب کوئی مفاد ہوا آپ دوسروں جیسی سیاست کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ ’’لوٹوں‘‘ کو قبول کر کے آپ نے کی۔ جیسا کہ جسے چپڑاسی نہیں رکھنا تھا اسے اپنے سیاسی مفاد کے مطابق وزیر داخلہ بنا دیا اور بقول آپ کے پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کو پہلے سپیکر پھر وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ بہرحال دیر آئے درست آئے کے مطابق خان صاحب نے توہین عدالت کیس میں معافی مانگ کر اچھا کیا۔ اب عدالت اگر ان سے یہ کہے گی کہ ’’ آپ بہت مقبول لیڈر ہیں ، عدلیہ آپ کو صادق و امین قرار دے چکی ہے، سیاست میں آپ جیسے اعلیٰ اوصاف رکھنے والا کوئی دوسرا کسی ماں نے جنم نہیں دیا۔ اپنے پونے چار سالہ اقتدار میں جس طرح ملک میں آپ نے دودھ اور شہد کی نہریں بہائیں اور کوئی نہیں بہا سکا۔ آپ نے اس کیس میں ابھی صرف معافی مانگی ہے اگر آپ غیر مشروط معافی مانگ لیں تو یہ عدلیہ پر آپ کا مزید احسان ہو گا۔ ایسی صورت میں مجھے یقین ہے خان صاحب غیر مشروط معافی بھی مانگ لیں گے ۔ اسی طرح عدلیہ کے علاوہ اب تک جتنے اداروں کی خان صاحب نے توہین کی ہے وہ سب بھی اگر خان صاحب کی ملک کے لئے اب تک کی انتھک خدمات کا کھلے لفظوں میں اعتراف کر کے ، خصوصاً ان کی مقبولیت کا اعتراف کر کے ان کا منت ترلہ کریں کہ ہم سے بھی وہ معافی مانگ لیں۔ میرے خیال میں ان سے بھی ایسی ہی ’’پھس پھسی معافی‘‘ مانگنے میں خان صاحب کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ معافی منگوانے کا ایک خاص طریقہ جو حال ہی میں متعارف کروایا گیا۔ وہ دیگر ادارے بھی اگر اپنا لیں تو خان صاحب سے معافی لینے کا اعزاز وہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ سنا ہے اگلے روز توہین عدالت کیس میں خان صاحب نے یہ بھی فرمایا ’’وہ خاتون جج کے پاس خود جا کر معذرت کرنے کے لئے تیار ہیں‘‘۔ میرا خیال ہے خاتون جج یہ رسک شاید نہ لیں، وہ انہیں بغیر اپنے پاس بلائے ہی معاف کر دیں گی۔ ویسے بھی جب ’’بڑوں‘‘ نے معاف کر دیا ہے ماتحت بے چارے کون ہوتے ہیں کسی کو نہ معاف کرنے والے؟؟؟۔ عدالت کو مزید یا تاریخ پہ تاریخ دینے کی اپنی روایت سے ہٹ کر یہ کیس اب نمٹا دینا چاہئے تھا۔ اس کیس سے مزید اب کیا نکالنا ہے؟۔ جو وقت مزید اس کیس پر ضائع کرنا ہے بہتر ہے وہی وقت ان سینکڑوں کیسز کو دیا جائے جو سالہا سال سے زیر التواء ہیں۔ خان صاحب کو معافی دینے کا باقاعدہ فیصلہ تحریری صورت میں جب آ جائے تو اس سے پہلے توہین عدالت میں جتنے لوگ نااہل ہو چکے ہیں ان سب کو چاہئے فوری طور پر عدلیہ سے استدعا کریں خان صاحب کو دی جانے والی رعایت انہیں بھی دی جائے۔ بلکہ خان صاحب جو ہر وقت عوام کو یہ درس دیتے ہیں ’’تم سے پہلے قومیں صرف اس لئے برباد ہوئیں جب کوئی بڑا جرم کرتا تھا اسے معاف کر دیا جاتا تھا‘‘ انہیں چاہئے جب ان کی معافی تحریری طور پر قبول ہو جائے وہ عدلیہ سے خود یہ استدعا کریں کہ توہین عدالت میں آج تک جتنے ’’چھوٹوں‘‘ کو سزا ہو چکی ہے سب کو معاف کر دیا جائے ورنہ میں آئندہ مارے شرم کے یہ نہیں کہہ سکوں گا ’’تم سے پہلے قومیں صرف اس لئے برباد ہوئیں کہ وہاں کوئی بڑا آدمی یا طاقتور جرم کرتا اسے معاف کر دیا جاتا‘‘ خان صاحب فرماتے تھے انہیں سزا ہوی تو وہ زیادہ ’’خطرناک‘‘ ہو جائیں گے۔ شکر ہے عدالت نے انہیں معاف کر دیا جس کے نتیجے میں وہ مزید ’’خطرناک‘‘ نہیں ہوئے ورنہ وہ مزید قابو سے باہر ہو جاتے۔ ہمارے حکمران بے چارے ’’ڈینگی‘‘ پر قابو پانے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔ خان صاحب پر قابو پانا تو بہت ہی مشکل ہے۔ خان صاحب کے ’’یوٹرن‘‘ لینے کے الفاظ بدل جاتے ہیں انداز نہیں بدلتے۔ ایک نوجوان ہر سال امتحان میں فیل ہو جاتا تھا۔ ہر سال سکول سے اپنا ’’نتیجہ‘‘ وصول کر کے وہ گھر آ کربتاتا ’’میں فیل ہو گیا ہوں‘‘ ۔پچھلے برس اس کے والد نے کہا ’’اب اگر تم نے یہ کہا میں فیل ہو گیا ہوں میں تمہاری ہڈیاں توڑ دوں گا‘‘۔ اپنی روایت کے مطابق وہ پھر فیل ہو گیا ۔ گھر آیا ، والد نے پوچھا ’’کیا بنا؟ … وہ بولا ‘‘ ابا کوئی نویں گل نئیں۔