بے خوابی سے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے ، ماہرین

بے خوابی سے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے ، ماہرین

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بے خوابی سے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے ،  

امریکن کالج آف کارڈیالوجی کی سالانہ کانفرنس میں جمعہ کو پیش کی گئی پچھلی تحقیق کے ایک نئے تجزیے کے مطابق، بے خوابی کے شکار افراد میں دل کا دورہ پڑنے کا امکان 69 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ 

محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم کی طرف سے کی گئی تحقیق میں چھ ممالک سے تعلق رکھنے والے 10 لاکھ سے زائد  52 سال  اوسط عمر  والے افراد کے  اعداد و شمار اکھٹے کیئے جس سے  خوابی اور دل کے دورے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔لوگوں کو بے خوابی کے طور پر درجہ بندی کیا گیا تھا۔

 تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ عادتاً پانچ یا اس سے کم گھنٹے سوتے تھے، ان میں دل کا دورہ پڑنے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ تھا جنہوں نے عمر یا جنس سے قطع نظر رات کو آٹھ گھنٹے سونے کا طریقہ اپنا یا ہوا تھا ۔

محققین کو امید ہے کہ یہ مطالعہ "صحت مند دل کو برقرار رکھنے میں نیند کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرے گا،" اس مطالعہ کی پہلی مصنف، یومنا ای ڈین، جو اسکندریہ، مصر میں اسکندریہ یونیورسٹی میں میڈیکل کی طالبہ ہیں۔

ڈین نے کہا، "بہت سے لوگوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ یہ کتنا اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ  "کچھ لوگ ضروری نہیں کہ بے خوابی کے شکار ہوں ، لیکن وہ اپنی پسند سے نیند سے محروم ہیں۔" "یہ آج کل عام ہے۔ یہ نتائج ہر اس شخص پر لاگو ہوتے ہیں جو رات میں پانچ یا اس سے کم گھنٹے سوتے ہیں۔

پٹسبرگ یونیورسٹی میں سنٹر فار سلیپ اینڈ کارڈیو ویسکولر آؤٹکمز ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سنجے پٹیل نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق %10 امریکیوں کو بے خوابی کی کوئی نہ کوئی شکل ہوتی ہے اور یہ  مرض خواتین میں زیادہ عام ہے۔

پٹیل  کا کہنا تھا کہ "اس کی وجہ  یہ ہو سکتی ہے کہ بے خوابی کے لیے دو سب سے عام خطرے والے عوامل میں اضطراب اور ڈپریشن ، جو دونوں خواتین میں زیادہ عام ہیں۔" ان پر قابو پاکر نیند کے مسائل حل کیئے جاسکتے ہیں تاکہ دل صحت مند رہے اور عمر میں اضافہ ہو ۔

مصنف کے بارے میں