گھاٹے کا سودا…

گھاٹے کا سودا…

ملک پر سدا بہار حکومت کرنے والوں نے ایک بار پھر ایسی کامیاب چال چلی ہے کہ کل کی اپوزیشن اور آج کی حکومت یہ سمجھنے سے قاصر رہی ہے کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے۔ یہی حال تحریک انصاف اور عمران خان کا ہے وہ بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ وہ اب حکمران نہیں رہے۔ اسی وجہ سے پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی سیاست نے تو شکوک و شبہات کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں چھوڑی کہ وہ کس طرز پر سیاست کے خواہاں ہیں۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد ان کے اصل چہرے کے تمام نقوش ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ وہ تو ہر حال میں کسی صورت بھی اقتدار کی کرسی چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھے۔ ایک آئینی عمل مکمل ہونے کے باوجود وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ وہ اب حکومت میں نہیں رہے۔ پارلیمنٹ نے انہیں آئین پر عمل پیرا ہو کر آئینی طریقے سے حکومت سے چلتا کیا ہے۔ تحریک انصاف نے تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کو روکنے کے لیے جس طرح غیر آئینی، غیر جمہوری اقدامات کر کے آئین کو بار بار پامال کیا اس کی مثال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ وہ تاحال اپنے اس غیر آئینی اقدام پر شرمندہ ہونے کے بجائے الٹا ریاستی اداروں پر ایسی غیر سنجیدہ تنقید کر رہے ہیں۔ جس کو نظر انداز کیا جانا شاید ریاستی اداروں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے تحریک عدم اعتماد ہونے والی رات وزیراعظم ہاؤس میں جو ہوا بادل نخواستہ اگر ریاستی ادارے بر وقت صورت حال کو نہ سنبھالتے تو ملک کی قومی سلامتی داؤ پر لگ سکتی تھی ۔ بی بی سی نیوز ایک مستند خبر رساں ادارہ 
ہے ان کی جانب سے دی جانے والی خبر تمام تر تردیدوں کے باوجود اپنا وجود اپنی حیثیت رکھتی ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ قومی ملکی سلامتی اور اداروں کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھنے کے پیش نظر اس رات کیا ہوا۔ ہیلی کوپٹر میں کون آیا کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا بھول جانا ہی بہتر ہے۔ آدھی رات اسلام آباد میں عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کا کھلنا اور خود عمران خان کی طرف سے بار بار اپنے جلسوں میں یہ سوال کرنا کہ رات کے اندھیرے میں عدالتیں کس لیے کھولی گئی تھیں۔ عمران خان کے اپنے اس سوال میں ہی سارے جوابات موجود ہیں اور اس سوال سے بی بی سی نیوز کو بھی تقویت ملتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ انہی قوتوں کو ہوا ہے جو حکومتیں بناتی اور توڑتی ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت کے جاتے ہی وہ سب بیانیہ بھی دفن ہو گئے جن بیانیوں نے ایک امید دلائی تھی کہ شاید مستقبل قریب میں ہم حقیقی جمہوریت دیکھیں گے۔ ووٹ کو عزت دو اور سیاسی اداروں میں مداخلت کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ بالواسطہ اور بلا واسطہ حکومت کرنے والوں نے کمال مہارت سے سب کچھ زمین بوس کر دیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر جمہوری رویوں کی حامی جماعتوں نے تحریک انصاف کی حکومت کو وقت سے پہلے چلتا کر کے اس میں ایک بار پھر جان ڈال دی ہے تحریک انصاف نے ایک تیرسے اب دو شکار کر رہی ہے ایک تو اس نے تھرڈ ایمپائر کو آڑے ہاتھوں لیا اور دوسرا امریکی مخالف کارڈ کا اس کامیابی سے کارڈ کھیلا ہے کہ وہ یہ عوام اور اپنے کارکنان کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت امریکہ کے کہنے پر گرائی گئی ہے حالانکہ اس میں رتی برابر بھی کوئی سچائی نہیں ہے۔ عمران خان اپنے اس جھوٹے بیانیہ کی بنیاد پر عوامی جلسے کرنے جا رہا ہے۔ بلاشبہ وہ اس میں ایک حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہوا نظر بھی آ رہا ہے۔ یہ سب کیا دھرا سیاسی جماعتوںکا شاخسانہ ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کی مدت پوری کرنے سے پہلے حکومت گرا کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دور حکومت میں بیڈ گورننس کی اپنی مثال آپ تھی۔ مہنگائی کرنے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ آٹا، چینی، کھاد کے بڑے بڑے بحرانوں کی زد میں تھی۔ غیر اخلاقی، غیر پارلیمان زبان بولنے کے سوا ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں کوئی ایک بھی ایسا کام نہیں کیا تھا کہ جس کی بنیاد پر وہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں اپنا کوئی کارنامہ پیش کرتی اپنی کوئی کارکردگی پیش کرتی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اپنی غلطی سے مردہ گھوڑے میں جان ڈال کر ایک بار پھر میدان میں کھڑا کر دیا ہے اور در پردہ سیاسی جماعتوں کی اس غلطی کا فائدہ اٹھانے والی قوتیں ووٹ چرانے والے الزامات سے بری الذمہ ہو چکی ہیں۔ رہی بات اتحادی حکومت کی وہ تو محض ریت کا ایک گھروندا ہے۔ اس کو بنانے والے جب چاہیں گے اس اتحادی حکومت کو گرا کر ایک بار پھر نیا میدان سجا کر خود ایمپائر کی سیٹ سنبھال لیں گے۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔ 

مصنف کے بارے میں