جنرل (ر) باجوہ شہباز شریف کو ذہین سمجھتے اور پسند کرتے تھے: عمران خان

جنرل (ر) باجوہ شہباز شریف کو ذہین سمجھتے اور پسند کرتے تھے: عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو شہباز شریف بہت پسند تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ شہباز شریف بڑا ذہین ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق عمران خان نے ویڈیو خطاب میں کہا کہ جنرل باجوہ نے فیصلہ کیا میں پسند نہیں اور پھر مجھے ہٹانے کا فیصلہ کیا، نامعلوم افراد کی پوری کوشش تھی مجھے ٹریپ کر کے قتل کر دیں، یہ نامعلوم افراد کوئی الیکشن نہیں چاہتے اس لئے انتشار چاہتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف نے جس جلدی سے فیصلہ کیا، صرف عدلیہ پر دباؤ  ڈالنے کیلئے کیا، پاکستان میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے، ہم سب چاہتے ہیں کہ عدالتی اصلاحات ہوں لیکن اقتدار میں بیٹھے لوگوں نے غلط کام کرنے ہوتے ہیں، یہ کبھی عدلیہ کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت کو پتہ چلا عوام ان کے ساتھ نہیں تو خوف ہوا کسی طرح الیکشن نہ ہوں، الیکشن نہ ہونے کیلئے انہوں نے بہت ظلم کئے، ان کی تاریخ ہے، یہ لوگ ایسے جج چاہتے ہیں جو ان کے ساتھ ہوں، آج انہوں نے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، ان کا ایک ہی مقصد ہے الیکشن سے فرار۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ہینڈلر ملے ہوئے ہیں، نیوٹرلز ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب لوگ تنقید کرتے ہیں تو کہتے ہیں کسی ادارے کی توہین ہوگئی، جو پارٹی الیکشن چاہتی ہے وہ تصادم نہیں چاہتی، جو الیکشن نہیں چاہتے وہ تصادم کرتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں شیلنگ کی گئی، پتھراؤ کر کے اشتعال دلایا گیا، افسوس یہ ہے ان کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو خود کو نیوٹرل کہتے ہیں، معاشرے سے تنقید ختم کریں تو معاشرہ مر جاتا ہے، جمہوریت میں تنقید ہوتی ہے ڈکٹیٹرشپ میں نہیں ہوتی، میرے خانساماں سفیر کو پکڑ کر لے گئے، اس سے پوچھا عمران خان کھانا کیا کھاتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ جب میں وزیراعظم تھا میرے دو نوکروں کو انہوں نے پےرول پر رکھ لیا تھا، شہباز گل سے بھی پوچھا تھا عمران خان کھانا کیا کھاتا ہے؟ کیا کسی کو شک نہیں پڑے گا آپ کو کیا دلچسپی ہے کسی کے کھانے سے؟ ابھی بھی کورس کریکشن کی ضرورت ہے، نیوٹرلز اپنا راستہ درست کر لیں، آپ نے جو خوف اور ڈر کا راستہ اختیار کیا ہے یہ بیک فائر کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسائل کا حل صرف ایک ہی ہے صاف اور شفاف الیکشن، مجھ پر دہشت گردی کے 40 کیس ہیں، کیا میں دہشت گرد ہوں؟ میں لاہور میں ہوں، مظاہرہ اسلام آباد ہوتا ہے، مقدمہ مجھ پر بن جاتا ہے، یہ حکومت قانون کے مطابق کوئی چیز نہیں کر رہی۔

مصنف کے بارے میں