14 سالہ رضوانہ کی حالت بدستور تشویشناک، پلیٹ لیٹس اور خون کی کمی، پولیس متاثرین کی بجائے ملزموں سے مل گئی، جج کی اہلیہ سے صلح کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے: اہلخانہ 

14 سالہ رضوانہ کی حالت بدستور تشویشناک، پلیٹ لیٹس اور خون کی کمی، پولیس متاثرین کی بجائے ملزموں سے مل گئی، جج کی اہلیہ سے صلح کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے: اہلخانہ 

لاہور :   جج کی اہلیہ کے تشدد کا شکار 14 سالہ رضوانہ کی حالت بہتر نہ ہوسکی۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز پلیٹ لیٹس بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اہلخانہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس ہمارا ساتھ دینے کے بجائے ملزمان سے مل گئی ہے اور ہم پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ 

  

 نیو نیو ز کے مطابق  لاہور کے جنرل ہسپتال میں زیر علاج   سرگودھا کی 14 سالہ لڑکی رضوانہ   کی حالت بدستور تشویشناک ہے ۔ پلیٹ لیٹس  اور خون کی شدید کمی ہوگئی ہے۔  

 پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا ہےڈاکٹرز  پلیٹ لیٹس بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔متاثرہ بچی کو  اب بھی آکسیجن پر  رکھا ہے۔ 

۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق  نے بھی جنرل ہسپتال  کادورہ کیا اور تشدد کا شکار بچی کی عیادت کی ۔ اہلخانہ کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔  سراج الحق نے کہا  شرمناک واقعہ ایسے شخص کے گھر ہوا جو لوگوں کو قانون کا درس دیتا ہے۔ رضوانہ پر ہوئے تشدد نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔

واضح رہے کہ جج نے اپنی ملزمہ اہلیہ کو ابھی تک شامل تفتیش نہیں کرایا جبکہ پولیس بھی ملزمہ تک پہنچ نہیں سکی۔ لاہور ہائیکورٹ سے ملزمہ کو یکم اگست تک ضمانت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوچکی ہے۔ 

گزشتہ روز ڈاکٹر فرید نے کہا تھا اس بچی کو شاید نہانے تک کی بھی سہولت میسر نہیں تھی اور انھیں شاید بہت ہی خراب حالت میں رکھا گیا تھا اور ان کے جسم پر زخم بھی تھے۔  بچی کی سچوریشن کا ایشو ہوا جس وجہ سے انھیں آکسیجن پر رکھا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ابھی یہ بچی کھا پی رہی ہے اور باتیں بھی کر رہی ہے۔

ڈاکٹر فرید نے بتایا کہ بچی کے دس بہن بھائی ہیں جبکہ ان کے والد سبزی منڈی میں مزدوری کرتے ہیں اور والدہ لوگوں کے گھروں میں جا کر کام کرتی ہیں۔اس بچی کی ری ہیبیلیٹیشن کا پلان بھی بنایا ہوا ہے، جس کے تحت انھیں مکمل صحتیابی کے بعد ایک باعزت اور بامقصد شہری بنایا جائے گا۔

دوسری طرف اسلام آباد کی پولیس نے 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدّد کے مقدمے میں ایف آئی آر میں نئی دفعات شامل کر لی ہیں۔ نئی دفعہ 328اے مقدمے میں شامل کی گئی ہے جو وحشیانہ تشدد، جسم کے اعضا ٹوٹنا سے متعلق دفع ہے ۔

ابتدائی ایف آئی آر بچی کے والد کی مدعیت میں درج کروائی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ متاثرہ بچی اسلام آباد میں تعینات ایک سول جج کے گھر میں گذشتہ 6 ماہ سے بطور گھریلو ملازمہ کام کر رہی تھیں۔

سرگودھا کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) فیصل کامران کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کے سر سمیت جسم پر 15 جگہ پر زخموں کے نشانات ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بچی کے سر پر متعدد جگہ گہرے زخم ہیں اور بروقت علاج نہ ہونے کے باعث یہ زخم خراب ہو چکے ہیں اور ان میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ’15 ظاہری چوٹوں کے علاوہ بچی کے اندرونی اعضا بھی متاثر ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ ڈاکٹر اکبر ناصر کے ترجمان نے بتایا کہ پولیس ملزمہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی کیونکہ جن دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے وہ ناقابل ضمانت دفعات ہیں۔

بچی کی والدہ کا ایک کلپ شیئر کیا گیا ہے جس میں وہ انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ’ظلم آپ سب کے سامنے ہے، مجھے انصاف چاہیے۔

اسلام آباد میں درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق بچی کے والد کی جانب سے مذکورہ سول جج کی اہلیہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھیں ان کی بیٹی نے بتایا ہے کہ ’وہ (جج کی اہلیہ) روزانہ ان پر ڈنڈوں اور چمچوں سے تشدد کرتی تھیں اور کمرے میں بھوکا پیاسا پھینک دیتی تھیں۔

مقدمے کے مطابق بچی نے یہ بھی بتایا ہے کہ انھیں سول جج کے گھر ملازمت کے بعد سے زیادہ تر عرصہ ایک کمرے میں بند کر کے رکھا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد نے پولیس کو بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی بچی کو ایک جاننے والے کی وساطت سے اسلام آباد کے جج کے گھر کام کے لیے رکھوایا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق جب بچی کے والد اور والدہ کئی ماہ صرف فون پر بات کرنے کے بعد گذشتہ روز بچی سے ملنے جج کے گھر پہنچے تو انھیں ایک کمرے سے اس کے رونے کی آواز آئی جب ہم نے اس کمرے کا رخ کیا تو وہاں سے بچی زخمی حالت میں موجود تھی اور زارو قطار رو رہی تھی۔

ایف آئی آر میں بچی کے جسم پر موجود زخموں کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ’بچی کے سر پر جگہ جگہ زخم تھے جن میں چھوٹے کیڑے پڑ چکے تھے۔ ان کا بازو، دونوں ٹانگیں اور ایک دانت بھی ٹوٹا ہوا تھا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق بچی کے جسم کے دیگر حصوں پر زخموں کے علاوہ ان کے گلے پر بھی نشانات تھےجیسے کسی نے گلا گھونٹنے کی کوشش کی ہو۔

مصنف کے بارے میں