مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے ناکام، بھارتی کسانوں کے "دہلی چلو مارچ" کا چھٹا روز

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے ناکام، بھارتی کسانوں کے

نئی دہلی : مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بھارت میں کسانوں کا دہلی چلو مارچ چھٹے دن بھی جاری ہے ۔ کسانوں پر تشدد کے بعد بھارت بھر سے کسانوں کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں ۔ کیرالہ کا چرچ آف ساؤتھ انڈیا بھی دہلی چلو مارچ کے حق میں سامنے آگیا۔ کسانوں کی شرائط کو ماننے کا مطالبہ کر دیا۔۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی چلو مارچ کے چھٹے دن بھارتی کسانوں کے حق میں دوسرے مذاہب کے افراد بھی شامل ہونے لگے۔ چرچ آف ساؤتھ انڈیاکے پادری ملائل سابو کوشے کا کہنا تھا کہ احتجاج کی حمایت کرنے کا ہمارا عزم انصاف اور مساوات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  ہمارے ملک کے زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے کسانوں کو انکے حقوق دینا ہوں گے ۔  ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ یا تو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے معاہدے سے دستبردار ہو جائے یا کسانوں کی شرائط پر نظر ثانی کرے۔

 کانگریس کے صدر ملکارجن کھارگے نے بھی مودی حکومت کو بھارتی کسانوں کے لیے بدترین قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ  مودی سرکار کے مسلسل جھوٹے دعوے ملک کو خوراک فراہم کرنے والے کسانوں کے لیے سخت آزمائش ہیں ۔ہریانہ میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سروسس کو بھی 19 فروری تک بند کر دیا گیا ہے۔ 

منگل کو نکلنے والی دہلی چلو مارچ کو شمبھو اور خانوری کے سرحدی علاقوں میں مودی کے سیکورٹی اہلکاروں نے آچ چھٹے دن بھی روکا ہوا ہے ۔ کسانوں کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باوجود کسان اپنے حق کے لیے ڈٹے رہیں گے۔ 

مصنف کے بارے میں