یورپی یونین: ایپل، گوگل اور میٹا کیخلاف بڑے پیمانے پرتحقیقات شروع

یورپی یونین: ایپل، گوگل اور میٹا کیخلاف بڑے پیمانے پرتحقیقات شروع

واشنگٹن: یورپی یونین نے ڈیجیٹل قانون کے تحت پہلی بار بڑے پیمانے پر ایپل، گوگل اور میٹا کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الفابیٹ(گوگل کمپنی)، ایپل اور میٹا کو یورپی یونین کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ خطے کے نئے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے سلسلے میں زیر تفتیش ہیں۔یورپی کمیشن نے کہا کہ وہ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی عدم تعمیل پر کمپنیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ان کمپنیوں کو بھاری مالی جرمانے یا کاروبار کو توڑنے کے خطرے کے تحت قوانین کی تعمیل کرنی چاہیے۔

کمیشن کے مطابق قواعد ڈیجیٹل مارکیٹوں کو”منصفانہ“ اور ”زیادہ مقابلہ کرنے کے قابل“ بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں جس سے ان بڑی ٹیک کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کی جا سکے، جو صارفین کو ایک کمپنی کی مصنوعات یا خدمات میں بند کر دیتے ہیں۔

یورپی کمیشن کے ریگولیٹرز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا گوگل اور ایپل ان نئے قوانین کی مکمل تعمیل کر رہے ہیں۔

گوگل کو ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی شرائط کی تعمیل نہ کرنے پر بھی جانچ پڑتال کا سامنا ہے جو ٹیک کمپنیوں کو حریفوں پر اپنی خدمات کو ترجیح دینے سے روکتی ہے۔

کمیشن نے کہا کہ اسے تشویش ہے کہ گوگل کے اقدامات کے نتیجے میں گوگل کے سرچ رزلٹ پیج پر درج تھرڈ پارٹی سروسز کے ساتھ منصفانہ اور غیر امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

کمیشن اس بات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ایپل آئی فون صارفین کو آسانی سے ویب براؤزر تبدیل کرنے کی اجازت دینے کے لیے  کام کر رہا ہے۔

کمیشن یورپی صارفین کے لیے فیس بک یا انسٹاگرام کے ماہانہ فیس ادائیگی پر اشتہارات کے بغیر والے ورژن کے لیے میٹا کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے، تاکہ وہ اپنے ذاتی ڈیٹا کو آن لائن اشتہارات کے ذریعے نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے سے بچ سکیں۔

علاوہ ازیں کمیشن نے کہا کہ اس کا مقصد 12 ماہ کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ان قوانین پر عدم تعمیل کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کے خلاف بڑے جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ئے قوانین کے تحت کمیشن کسی کمپنی کے مجموعی عالمی ٹرن اوور کا 10 فیصد تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے، اور اسے 20 فیصد تک بڑھایا بھی جاسکتا ہے، جب کہ انتہائی حالات میں، یورپی یونین کمپنیوں کو توڑنے کا حکم دے سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں