نواز شریف کہتے ہیں امیر سرمایہ کاری کریں تو ان سے سوال نہ پوچھیں،یہ غلط ہے، ہم پوچھیں گے کہ مقامی لوگوں کو کتنا روزگار دیا، تنخواہ کیا رکھی:بلاول

نواز شریف کہتے ہیں امیر سرمایہ کاری کریں تو ان سے سوال نہ پوچھیں،یہ غلط ہے، ہم پوچھیں گے کہ مقامی لوگوں کو کتنا روزگار دیا، تنخواہ کیا رکھی:بلاول

 نوشہرہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و سابق وفاقی وزیر بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ  نواز شریف کہتے ہیں امیر لوگ سرمایہ کاری کریں تو ان سے سوال نہ پوچھیں، میں سمجھتا ہوں یہ غلط ہے، ہم سوال ضرور پوچھیں گے، ہم پوچھیں گے کہ مقامی لوگوں کو کتنا روزگار دیا، تنخواہ کیا رکھی۔


انہوں نے ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ     نواز شریف کہتے ہیں امیر لوگ سرمایہ کاری کریں تو ان سے سوال نہ پوچھیں، میں سمجھتا ہوں یہ غلط ہے، ہم سوال ضرور پوچھیں گے، ہم پوچھیں گے کہ مقامی لوگوں کو کتنا روزگار دیا، تنخواہ کیا رکھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کے بعد ہم وہ اونٹ ہوں گے جہاں یہ اونٹ بیٹھے گا وہاں حکومت ہوگی۔
ان کاکہنا تھاکہ  اگر الیکشن سے پہلے رزلٹ طے کرنا ہے تو پھر ایسے الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں، تمام مسائل سے نکلنے کا واحد راستہ فری اینڈ فیئر الیکشن ہے۔جیالوں نےشہید بھٹو کے لیے کوڑے کھائے، جیالے شہید بھٹو کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے، ورکرز کنونشنز کا سلسلہ جاری ہے، مجھے محسوس ہو رہا ہے خیبرپختونخوا کے جیالے جاگ چکے ہیں۔خیبرپختونخوا کے جیالے الیکشن سے نہیں بھاگ رہے، خیبرپختونخوا کے جیالے الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا کے جیالوں نے تین آمروں کا مقابلہ کیا، انہوں نے دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، جیالے اپنے نظریئے سے پیچھے نہیں ہٹے، ان پر فخر ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آج کل پاکستان میں بہت مسائل اور مشکلات ہیں، ایک طرف معیشت کا حال سب کے سامنے ہے، مہنگائی، غربت، بے روزگاری تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے، اسلام آباد والوں کو کوئی پروا نہیں ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کبھی پولیس، کبھی افواج پر دہشت گردی کے حملے ہوتے ہیں، اداروں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے، ایک طرف سیاسی و جمہوری بحران ہے، جمہوریت کی جدوجہد کرنے والے آج مایوس ہیں، عوام پوچھ رہے ہیں یہ وہی جمہوریت ہے جس کے لیے محترمہ نے شہادت قبول کی تھی۔

 تمام مسائل کا حل صرف اور صرف پیپلز پارٹی نکال سکتی ہے، پیپلز پارٹی اپنے لیے نہیں ملک کے بارے میں سوچتی ہے، تمام مسائل سے نکلنے کا راستہ فری اینڈ فیئر الیکشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر، چیف جسٹس 8 فروری کے الیکشن کو یقینی اور شفاف بنائیں، امید ہے صاف اور شفاف الیکشن ہوں گے، اگر شفاف الیکشن نہیں ہوگا تو نقصان عوام کا ہو گا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ 70، 70 سال سے سیاست کرنے والے بزرگوں سے مطالبہ ہے اپنے منشور پر الیکشن لڑیں، بزرگ سیاست دان انتظامیہ کے زور پر الیکشن نہ لڑیں، پیپلزپارٹی عوام پر بھروسہ کرتی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والوں کو کہتے ہیں جب تک غربت، مہنگائی ہے تب تک روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ رہے گا، انہوں نے نعرے لگائے کہ مانگ رہا ہے ہرانسان "روٹی‘،کپڑا اور مکان"۔


چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وعدہ ہے موقع ملا تو بھٹوازم کے تحت ملک کو چلاؤں گا، ہم ملز مالکان کو نہیں غریبوں کو فائدہ پہنچائیں گے، ہم عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ہم بزنس کمیونٹی کے خلاف نہیں ہیں، بزنس کمیونٹی کو اپنی ترقی میں مزدوروں کو شیئر دینا پڑے گا، اگر غریبوں کو حق نہیں ملے گا تو ترقی پھر امیروں کی ہو گی۔


انہوں نے کہا کہ ہم عوام کا فیصلہ مانیں گے، کسی اور کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں، آج کل ہر کوئی بڑی بڑی باتیں کر رہا ہے، وہ جو کہتا تھا ہر کسی کو جیل بھیجوں گا بے چارہ آج خود جیل میں ہے، شاید وہ جیل میں کوئی سبق سیکھے گا۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک جیل والے سے دوسرا کہتا ہے بات ہو گئی دوتہائی اکثریت ہماری ہو گی، یہ وہی لوگ ہیں جو پنجاب کے 20 ضمنی الیکشن میں کہتے تھے 15 سیٹیں جیب میں ہیں باقی تین سیٹوں پر مقابلہ ہوگا، ان سے لاہور میں جلسہ کروایا گیا وہ دوتہائی اکثریت کی باتیں کر رہے ہیں، بہتر ہو گا الیکشن ہونے دیں اور عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔بلاول بھٹو نے ن لیگ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی و ضمنی الیکشن میں ڈر کر بھاگنے والوں کو عوام ایسا جواب دیں گے کہ نسلوں تک یاد رہے گا۔

مصنف کے بارے میں