تحریر: طارق وسیم
ملک میں ایک بار پھر نئے صوبوں کی بحث چھڑ گئی ہے ، وفاقی وزیر داخلہ نے ایک تقریر میں گورننس کو بہتر کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی تجویز دی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گذشتہ روز بریفنگ میں کہا کہ 1971 میں پاکستان کی آبادی 7 کروڑ اور صوبے 4 تھے، اب آبادی 25 کروڑ اور صوبے وہی 4 ہیں، اس مسئلے کو دیکھنا ضروری ہے ،سسٹم کو ری سیٹ کرنا ہے تو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ابھی کردیں۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان ہارڈ سٹیٹ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا سب سے بڑا ثبوت بلوچستان کے سردار اور نواب ہیں، جو غریبوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے ،یہ سردار بجٹ میں سے حصہ مانگتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے بھارت کا بیانیہ پروان چڑھنا چاہتے تھے لیکن ناکام ہوئے، کیونکہ کشمیر ریاست کا سب سے لاڈلا بچہ ہے، جس سے ہر پاکستان محبت کرتا ہے اور وہاں سے بھی ایک ہی آواز آتی ہے ،کشمیر بنے گا پاکستان ،سازشی عناصر وہاں الیکشن روکنا چاہتے تھے لیکن انہیں ناکامی ہوئی اورآئندہ بھی یہی ہوگا۔
ترجمان پاک فوج اور محسن نقوی کے بیانات کو لوگوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے مطلب کے مطابق سمجھا اور پیش کیا،سوشل میڈیا پر بیٹھے نابغوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی گورننس خراب ہے۔تاہم اگر نئے انتظامی یونٹس کی بات کا جائزہ لیاجائے تونئے انتظامی صوبوں کا مطالبہ بہت پرانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے ، دوسری جانب پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام پر کوئی خاص اختلاف نہیں پایا جاتا۔پنجاب اسمبلی جنوبی پنجاب صوبے کی باقاعدہ منظوری دے چکی ہے ۔شمالی اور وسطی صوبے بننے پر بھی ،پنجاب کی اکثریت کو کوئی اعتراض نہیں ہے ،سندھ میں نئے صوبے بننے کی صورت میں کراچی کو وفاق کے سپرد کیے جانے کی تجویز ہے، جس کے بعد حیدر آباد اور سکھر کو نکال کر دیہی سندھ باقی رہ جاتا ہے، جہاں پیپلز پارٹی کا اثر ورسوخ اور بھرپور ووٹ بینک ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کراچی کے بعد سندھ کی اکانومی کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا،بلوچستان سے گوادر کو وفاق کے زیر انتظام دینے کی تجویز بھی کافی پرانی ہے جس کی مخالفت ہوتی رہی ہے۔یاد رہے کہ اکبر بگٹی سوئی گیس کی رائلٹی مانگا کرتے تھے ،خیبر پختونخوا میں ہزارہ کو علیحدہ صوبہ بنانے کی تحریک پہلے ہی چل رہی ہے۔یہاں جو سوالات عمومی طور پر اٹھائے جاتے ہیں وہ یہ ہیں
یہ صوبے اپنے اخراجات کیسے پورے کریں گے ؟۔زیادہ صوبے بننے سے وفاق کی گرفت ملکی نظام پر مضوط ہوگی اور یوں صوبائی خودمختاری کمپرومائز ہوجائے گی ۔اس کا جواب کافی سادہ ہے۔آپ نئے صوبے بنائیں گے تو محصولات جمع کرنے کا نیا نظام بھی بن جائے گا ،وقت کے ساتھ صوبوں کی معقول آمدنی ہوگی، لیکن کوئی قدم اٹھائے بغیر صرف سوالات کیے جانا مسئلے کا حل نہیں ،دوئم امریکہ میں 52 اور ہمارے ہمسائے بھارت میں 30 صوبے ہیں، اور سب کے سب خود مختار ہیں ،وفاق کی اپنی حدود ہیں اور صوبوں کی اپنی۔ترجمان پاک فوج درست کہہ رہے ہیں سسٹم ری سیٹ کرنا ہے تو ابھی کریں انتظار کیسا ؟آئینی طریقہ موجود ہے،بسم اللہ کریں۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔