اسلام آباد / مظفر آباد:آزاد جموں و کشمیر میں جاری حالیہ سیاسی و عوامی صورتحال پر وفاقی اور ریاستی قیادت کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج ختم نہ کرنا مذاکرات سے عدم مخلص ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ایک نئے ڈیڈ لاک کی صورتحال ہے۔
وفاقی دارالحکومت سے بھیجے گئے اعلیٰ ترین سیاسی وفدجس میں احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، طارق فضل چوہدری، قمر زمان کائرہ، راجہ پرویز اشرف، شاہ غلام قادر، طارق فاروق، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور چوہدری یاسین شامل تھےکی موجودگی کے باوجود ڈیڈ لاک برقرار رکھنے پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
حالیہ صورتحال کے تناظر میں آزاد کشمیر کے مالیاتی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کی اپنی سالانہ آمدن تقریباً 60 ارب روپے ہے، جبکہ اس کا بجٹ 300 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس بڑے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت پاکستان ہر سال 240 سے 250 ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کرتی ہے۔
بجٹ کے علاوہ، پاکستان 1989ء سے مقیم 63,000 سے زائد مہاجرین کے لیے سالانہ تقریباً 15 ارب روپے کے براہ راست وظائف بھی ادا کر رہا ہے۔
واضح کیا گیا ہے کہ جے اے اے سی کے عوامی فلاح و بہبود سے جڑے تمام بڑے مطالبات مانے جا چکے ہیں۔ اب جو 3 مطالبات باقی رہ گئے ہیں، وہ مالیاتی پالیسی اور آئین سے وابستہ ہیں جنہیں سڑکوں کے دباؤ یا الٹی میٹم کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکس کے فیصلے براہ راست حکومت کی عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کی فنڈنگ پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے اس معاملے میں مالیاتی حقیقت پسندی ضروری ہے۔ وفاقی وفد نے مراعات میں اصلاحات پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اس کے لیے نعروں کے بجائے ٹھوس اور عملی تجاویز کی ضرورت ہے۔
یہ ایک انتہائی حساس آئینی معاملہ ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں کسی بھی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے اور پارلیمانی طریقہ کار درکار ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے آزاد کشمیر کا موازنہ کرنا بھی حقائق کے منافی ہے۔
اب بنیادی سوال یہ نہیں کہ تحفظات سنے گئے یا نہیں، کیونکہ زیادہ تر مطالبات تسلیم ہو چکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ تحریک کا مقصد مسائل کا حل ہے یا محض احتجاج کو طول دینا؟ آزاد کشمیر کے عوام کو چاہیے کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے گفتگو کا ساتھ دیں۔ آئینی مسائل کا حل جمہوری اداروں اور قانون سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ سڑکوں پر دباؤ ڈال کر روزمرہ زندگی، کاروبار اور امن و امان کو مفلوج کر کے۔ کسی بھی تحریک کی کامیابی کا معیار مارچ آرگنائز کرنا نہیں، بلکہ عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانا ہے۔