Get Alerts

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر عالمی تشویش، ماہرین کا سخت حفاظتی اقدامات پر زور

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر عالمی تشویش، ماہرین کا سخت حفاظتی اقدامات پر زور

کیلیفورنیا: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے ممکنہ خطرات نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کردی ہے، جبکہ ماہرین نے اے آئی کو جوہری ہتھیاروں جتنا سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی ترقی کی رفتار محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1300 سے زائد کمپیوٹر سائنس دانوں نے ایک مشترکہ کھلے خط کے ذریعے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے سخت حفاظتی اصول وضع کیے جائیں اور اس عمل کو بے قابو رفتار سے آگے بڑھنے سے روکا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے تیزی سے فروغ سے پیدا ہونے والے ممکنہ وجودی خطرات کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے ان خدشات سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون سازی اور ضابطہ کاری کے حوالے سے اب تک خاطر خواہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات کو منفی عناصر کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانے والا معاملہ قرار دیا ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق اے آئی کے میدان میں برتری حاصل کرنے والا ملک عالمی سطح پر اپنی طاقت اور سبقت برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہوگا۔

مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث ماہرین کی جانب سے ٹیکنالوجی کی محفوظ ترقی، مؤثر نگرانی اور سخت حفاظتی نظام کے مطالبات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
 
 

ٹیگز: