Get Alerts

دنیا کا نیا نقشہ اور بھارتی اعتراضات

دنیا کا نیا نقشہ اور بھارتی اعتراضات

تحریر: طارق وسیم

جمعے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا بھر میں  بنائے گئے بر اعظوں کی وسعت پرووٹنگ ہوئی۔کیس  ،افریقی ریاست  ٹوگو کی جانب سے پیش  کردہ ایک قرار داد میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افریقہ دنیا کا سب سے بڑا بر اعظم  ہے ،جسے  عالمی نقشے میں غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور ایشیا کو  رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا بر اعظم  دکھا یا گیا ہے۔اس قرارداد کو افریقی یونین اور اس کے سربراہ فرانس کی حمایت بھی حاصل تھی ،ووٹنگ ہوئی تو  قرار داد کے حق  164 ا ور مخالفت میں صرف ایک ووٹ آیااور 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ مسئلہ کیا ہے اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں لیکن اس وقت جو معاملہ درپیش ہے وہ کچھ یوں ہے   کہ اقوام متحدہ  جو نیا نقشہ جاری کرنے جا رہا ہے ،اس میں آزاد جموں و کشمیر  اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہیں جبکہ لداخ اور تبت کو  چین کا حصہ دکھایا گیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر کا علاقہ لیہہ بھی پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر کے کچھ علاقے اس نقشے کے مطابق پاکستان کا حصہ ہیں ،ابھی یہ نقشہ نہ تو استعمال ہونا شروع ہوا ہے، نہ ہی دنیا کے کسی بھی ملک پر پابندی ہے کہ وہ اسے ہر صورت استعمال کریں گے لیکن بھارت نے شور مچانا شروع کر دیا ہے۔ان کی وزارت خارجہ کی جانب سے  بیان جاری کیا گیا ہے کہ بھارت ایسے کسی  نقشے کو تسلیم نہیں کرے گا۔
 دوسری جانب پاکستان نے بھارت کے  بیانات مسترد کر دیے ہیں۔یہ بات ایک نقشے کی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والی اقوام کی شناخت کی ہے، افریقہ نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا بر اعظم ہے بلکہ اسے قدیم ترین سر زمین بھی مانا جاتا  ہے ،افریقہ پر برطانیہ کی حکومت اتنی دیر نہیں رہی جتنی دیر فرانس نے وہاں قبضہ جمائے رکھا ،اس وقت بھی افریقن نیشن کا سربراہ فرانس ہی ہے ،افریقی اقوام  برطانیہ کو شدید ناپسند  جبکہ فرانس کو احترام کی نظرسے دیکھتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے افریقہ کے ساتھ  برصغیر والا سلوک کیا تھا۔ہندوستان میں بنگالی اور پنجابیوں کی اکثریت انگریزوں کی حاکمیت  کو نہیں  مانتی تھی۔انگریزوں اپنی روایتی مکاری اور  بزدلی کا مظاہرہ  کیا اورتقسیم ہند کے نام پر پنجاب  اور بنگال کا بٹوارہ کر دیا۔
یہی سلوک تاج برطانیہ نے افریقہ کے ساتھ ہوا،جہاں کے ایک کروڑ مربع میل سے زائد علاقے کو  ایشیا میں شامل کر تے ہوئے نیا نقشہ جاری کر دیا، یوں ایشیا  دنیا کا سب سے بڑا براعظم بن گیا،اب جائزہ  لیتے ہیں ان ممالک یا علاقوں کا جو افریقہ کا حصہ ہیں، لیکن انگریز وں نے انہیں ایشیا میں شامل کیا ، جسمانی ساخت اور شناخت کے لحاظ سے  تمام خلیجی ممالک افریقہ کے زیادہ نزدیک ہیں، ان  کی ثقافت بھی اسی بر اعظم یا علاقے کے لوگوں سے ہم آہنگ ہے ،زمینی راستے بھی ایک دوسرے سے منسلک ہیں ،قدرت کا ایک بڑا واضح نظام ہے، وہ تمام علاقے جو دریاؤں کے ساتھ ساتھ واقع ہوں  ایک ہی سمجھے جاتے ہیں، جیسے ہی درمیان میں سمند ر آجائے  ساخت اور شناخت بدل جاتی ہے ۔امریکہ اسی فارمولے کے تحت دریافت ہوا تھا ،اب اگر افریقی دریاؤں  کا جائزہ لیا جائے تو یہ خلیج میں بھی بہتے ہیں جیسے دجلہ اور فرات،مصر کی نہر سویز   جو خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر کو تجارتی راستہ فراہم کرتی ہے، دریائے نیل سے نکالی گئی ہے اور خلیجی ممالک کے لیے ایک قدرتی گزرگاہ ہے ، اس لیے  یہ تما م علاقے در اصل  بر اعظم افریقہ ہی کا حصہ ہیں جنہیں برطانیہ نے بد نیتی سے اور اپنے تجارتی مقاصد کے  لیے ایشیا کا حصہ قرار دیا تھا۔
اس کا ثبوت ایک یہ بھی ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کا پہلا وفد حبشہ گیا تھا جو افریقہ کا حصہ ہے اور آج کل ایتھوپیا کہلاتا ہے، وجہ تھی زمینی راستہ ذہنی اور ثقافتی ہم آہنگی اور نجاشی کا ایک بہترین منصف حکمران ہونا۔اسی طرح  پاکستان اور چین دنیا کی دو قدیم ترین تہذیبوں کے وارث ہیں ۔اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ کی تہذیب 10 ہزار سال پرانی ہے اور پنجاب کی تاریخ 15 ہزار سال پرانی ہے دوسری جانب چین ہے جس کی تارخ کم و بیش 10 ہزار سال پرانی ہے ،وادی پنجاب اور سندھ کی تہذیب دریاؤں  کنارے پنپتی اور نمو پاتی رہی ہے۔ہمالیہ کے پہاڑوں سے نکلنے والے دو دریا  ، دریائے سندھ اور دریائے  ستلج اس  تہذیب کے وارث ہیں۔یہ دونوں دریا تبت کے کیلاش پربت سے نکلتے ہیں اور  ہزاروں  برس سے کروڑوں انسانوں کو سیراب  کرتے آرہے ہیں،  تبت اور لداخ  کے لوگ ساخت اور شناخت کے لحاظ سے چینی ہیں اس لیے علاقہ بھی ان کا ہے ہمالیہ کے نیچے بہنے والے دریا   اتر کھنڈ ، اور ہماچل  سے ہوتے ہوئے  پنجاب تک پہنچتے ہیں۔
 اس لیے یہاں کے لوگ اس تہذیب کے وارث ہیں ،د ریائے  جہلم کشمیر کے علاقے پیر پنجل سے نکلتا اور پاکستان میں بہتا ہے،  راوی ہماچل سے نکلتا پاکستان میں بہتا ہے ، چناب ہماچل سے نکلتا پاکستان میں بہتا ہے، یعنی وہ تمام علاقے جو کوہ ہندو کش میں ہیں، بالخصوص  ہمالیہ کے نیچے  کا علاقہ،  اس کے وارث وہ لوگ ہیں جو ان دریاؤں کے ساتھ رہتے ہیں ،یہی ہزاروں برس سے آبادیات کا بنیادی اصول ہے  اس لیے صرف کشمیر ہی نہیں  ہماچل اتر کھنڈ اور دلی بھی  در حقیقت پاکستان  ہی کے بچھڑے ہوئے ٹکڑے ہیں ،اب زرا جائزہ لیتے ہیں  بھارت  کے دعوؤں کا ،اب سے 500 سال قبل بر صغیر چھوٹی چھوٹی ریاستوں  میں بٹا ہوا علاقہ  تھا ،جہاں ہر ریاست خود مختار تھی اور اس کے اپنے عقائد تھے تجارت بارٹر سسٹم  یا سکہ رائج الوقت کے مطابق کی جاتی  تھی ،وسطی ہندوستان لینڈ لاکڈ تھا اور ،یہاں کے بسنے والے  زیادہ تر  دیگر علاقوں کے لوگوں پر انحصار کیا کرتے تھے ۔رام کے ایودھیا میں پیدا ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وسطی بھارت کے لوگوں نے تقسیم کے بعد اقتدار میں اپنا  حصہ بڑھا لیا،جبکہ حقیقت میں یہ لوگ کسی تہذیب کے وارث نہیں یہی وجہ ہے کہ اکھنڈ بھارت کا جھنڈا اٹھانا پڑتا ہے ،لوگوں کو مذہب  کے نام پر جمع  کر کے  حکومتیں بنائی جاتی ہیں ،نفرت بیچی جاتی ہے ،اقوام متحدہ کے نقشے کو  برا بھلا کہا جاتا ہے، کیونکہ ایسا کرنے  سے  بھلے دنیا  آپ  پر تنقید کرے لیکن  اپنے ملک میں عوامی پذیرائی ملتی ہے ،لیکن کیا اس سے حقائق بدل جائیں گے ،تاریخ کا  رخ موڑا نہیں جا سکتا،  ہاں کچھ دیر کے لیے اسے مسخ کرنا ممکن ہے لیکن یہی تاریخ جب اپنی درستگی  خود کرتی ہے تو کوئی روک نہیں پاتا ،بھارتی حکمرانوں کو یہ بات سمجھنی ہو گی۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: