Get Alerts

پختونوں  کی عزت اور ایک وزیرِ اعلیٰ کا تماشہ

پختونوں  کی عزت اور ایک وزیرِ اعلیٰ کا تماشہ

تحریر : حافظ سید عاصم علی 

پاکستان ایک چمن ہے اور اس چمن کے چار خوبصورت پھول پنجابی، سندھی، بلوچی اور پختون ہیں۔ اس چمن کی خوشبو اسی وقت قائم رہتی ہے جب چاروں پھول ایک ساتھ کھلتے ہیں۔ ہر قوم اپنی غیرت، روایت، ثقافت اور بہادری سے پہچانی جاتی ہے اور جب پٹھان قوم کی بات آتی ہے تو سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس کی غیرت، مہمان نوازی، شجاعت اور بہادری کی مثالیں پوری دنیا میں دی جاتی ہیں۔
 تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس دھرتی پر مشکل وقت آیا، پختون قوم نے سب سے آگے کھڑے ہو کر قربانی دی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہر قوم پٹھان بھائیوں کو عزت، محبت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ معاشرے میں ان کا ایک مثالی مقام ہے لیکن افسوس کہ کچھ دشمن عناصر اور ہمارے اندر موجود کالی بھیڑیں مسلسل اس عظیم قوم کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔
 وہ اس غیرت مند قوم کو دنیا کے سامنے مذاق بنا کر پیش کرنا چاہتی ہیں اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب یہ کام کوئی اور نہیں، اسی قوم کا اپنا منتخب نمائندہ کرے۔حال ہی میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سٹریٹ موومنٹ کے نام پر صوبہ پنجاب تشریف لائے۔ روایت، آئین اور مہمان نوازی کا تقاضا یہی تھا کہ آنے والے کو عزت دی جائے، اور پنجاب نے یہ روایت خوب نبھائی۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ایک بہترین میزبان ہونے کا ثبوت دیا، بطور خاتون اور بطور وزیرِ اعلیٰ، انہوں نے مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ انہوں نے پولیس کی بھاری نفری تعینات کروائی، سکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ یہی پنجاب کی ثقافت ہے، یہی پٹھانوں کی مہمان نوازی کا جواب ہے مگر افسوس کہ موصوف وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اس عزت کو ہضم نہ کر سکے۔
پنجاب کی عوام نے جو منظر دیکھا وہ حیران کر دینے والا تھا۔ ایک صوبے کا وزیرِ اعلیٰ جسے اپنے صوبے کے عوام کے مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی، وہ فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر تصویریں بنواتا رہا۔ کبھی سڑک کنارے احتجاج کا ڈرامہ، کبھی خود ہی پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے ہی یوٹیوبرز سے اپنی شناخت کروانا کہ "دیکھو میں گرفتار ہو گیا ہوں"۔ یہ بہادری نہیں، یہ بزدلی کا ڈھونگ تھا۔ یہ احتجاج نہیں، یہ سستی شہرت کا تماشہ تھا۔
یہ دیکھ کر پنجاب کے لوگ تو حیران ہوئے ہی، خیبر پختونخوا کے باشعور پٹھان بھی شرمندہ ہو گئے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ کیا پوری دنیا میں ہماری پہچان یہی رہ گئی ہے؟ کیا دنیا ہمیں ایک غیرت مند، بہادر قوم کے طور پر نہیں بلکہ ایک جوکر نما، نفسیاتی مریض قیادت کے طور پر دیکھے گی؟۔
پٹھان قوم نے تو ہمیشہ بڑی بات کی ہے، بڑے فیصلے کیے ہیں۔ تاریخ میں پٹھانوں نے کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سیاست نہیں کی۔ انہوں نے ہمیشہ میدان میں کھڑے ہو کر للکارا ہے  لیکن آج ایک شخص اپنی کرسی بچانے کے لیے، اپنی ناکامی چھپانے کے لیے، اس عظیم قوم کی تاریخ کو داغدار کر رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام آج پوچھ رہے ہیں کہ ہمارا وزیرِ اعلیٰ پنجاب میں فٹ پاتھ ناپ رہا ہے، لیکن خیبرپختونخوا میں سیلاب سے بے گھر ہونے والے پختون بھائیوں کے پاس کون جائے گا؟ وہ وزیرِ اعلیٰ لاہور میں پولیس کی گاڑی میں سیلفی بنا رہا ہے، لیکن پشاور کے ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہیں ۔ سوات کے سکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں ۔ 
حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا تماشہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ یہ ملک میں قومیت کا بیج بونے کی کوشش ہے۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پنجابی اور پختون ایک دوسرے کے دشمن ہیں  جبکہ حقیقت میں دشمن صرف ایک ہے، وہ ہے نااہلی۔ پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف عوام کے لیے جان توڑ محنت کرتی ہیں  جبکہ خیبر پختونخوا میں 12 سالہ حکومت کے پاس دکھانے کو ایک سڑک تک نہیں۔ اس ناکامی کو چھپانے کے لیے قومیت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
پختون قوم باشعور ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ یہ شخص پٹھانوں کا نمائندہ نہیں، بلکہ پٹھانوں کی عزت کا سوداگر ہے۔ جو شخص اپنی ہی قوم کو دنیا کے سامنے تماشہ بنا دے، وہ قوم کا خیرخواہ کیسے ہو سکتا ہے؟۔پاکستان اپنے پٹھانوں، پنجابیوں، سندھیوں اور بلوچوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ چاروں بھائی ہیں۔ کوئی ایک وزیرِ اعلیٰ ان بھائیوں کو لڑا نہیں سکتا۔
بقول قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ، پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ اور یہ تبھی قائم رہے گا جب ہم اس طرح کے ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر وزیرِ اعلیٰ کے جھانسے میں نہیں آئیں گے، بلکہ مریم نواز شریف جیسی محنتی اور سنجیدہ قیادت کے ماڈل کو اپنائیں گے جو جوڑتی ہے، توڑتی نہیں۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے۔

ٹیگز: