وجیہہ تمثیل مرزا
قیام پاکستان ! وہ روح پرور مناظر، وطن عزیز پاکستان کی بنیاد رکھنے کی جدوجہد، ہجرت کے مناظر، ہجرت کرنے والوں کی قربانیاں، محنت، ہندٶں اور انگریزوں کی سازشیں، ان تمام تر قربانیوں، رکاوٹوں، اور مظالم کے باوجود اللہ کے کرم سے مسلمانوں کو آزاد ریاست مل گٸ۔ جب پاکستان ایک آزاد ریاست قرار پایا تھا اس وقت جو بھی نیا کارنامہ سرزمین پاکستان پر سرانجام دیا جاتا تھا تو وہ عمل ہر مسلمان کے لیے کسی روح پرور لمحے سے کم نہیں ہوتا تھا، ظاہر ہے آزاد آسمان تلے آزادی کے ساتھ پہلی سانس ملی تھی جو کہ اس وقت ہر ایک مسلمان کے لیے قیمتی اثاثہ تھی، اور آج کے مسلمان اس آزاد ملک اور آزاد سانس کی قدر ہی نہیں کرتے۔ تو بات شروع کرتے ہیں قیام پاکستان کے وقت ہونے والے کارناموں کی۔ جب پاکستان ایک آزاد ریاست قرار پایا تھا اس وقت ہر مسلمان ہر ادارہ اس کوشش میں تھا کہ اس آزاد ریاست میں مسلمانوں کو ہر وہ سہولت، ہر وہ ایجاد، فراہم کی جاۓ جس کے وہ حقدار ہیں اور انگریزوں اور ہندئوں کی غلامی کے دوران ان سہولیات سے آراستہ نہیں ہو سکے۔ تو جی سب سے پہلے اس وقت پاکستان میں مسلمانوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لیے کسی ایسے نظام کی فوری ضرورت تھی جس سے وہ ایک دوسرے تک پیغام پہنچا سکتے۔ جن جن کے پیارے دوران ہجرت کہیں کھو گئے تھے یا پاکستان کے دوسرے شہروں میں قیام پذیر تھے تو ان کا حال احوال جانچنے کے لیے نظام ڈاک متعارف کروانے کی فوری ضرورت تھی۔ تاکہ سب ایک دوسرے کو خط لکھ سکیں۔ اور جب خط بھیجنا ہو ڈاک کے زریعے تو اُس دور میں ڈاک ٹکٹ ہونا بھی لازمی قرار دیا جاتا تھا۔ اب سال 2026 کے بہت سے افراد نہیں جانتے کہ ڈاک ٹکٹ ہوتا کیا ہے، اس کی انفارمیشن سے لاعلم ہیں اور مجھے خود بھی تحقیق کرنا پڑی کیونکہ ہم آج کے لوگ ان پرانی یادگاروں کو کیا ہی سمجھ سکتے ہیں۔ " ڈاک ٹکٹ" کا مطلب انگریزی میں "Postage Stamp" یا "Stamp" ہے۔ یہ کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا ہے جو خط یا پارسل پر بطور فیس (محصول) چسپاں کیا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاک کا خرچ ادا کر دیا گیا ہے۔ اس زمانے میں بہت سے لوگ تو اس " ڈاک ٹکٹ" کو ڈیزائن کے طور پر سنبھال کر رکھتے تھے۔ ٹکٹ عموماً کسی ملک یا علاقے کی ڈاکی اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں اور ان پر قیمت، ملک کا نام اور مختلف تصویری یا علامتی نقش ہوتے ہیں۔ ڈاک ٹکٹ کا آغاز 6 مئی 1840ء کو مملکت متحدہ میں دنیا کے پہلے چپکنے والے ڈاک ٹکٹ، پینی بلیک، کے اجرا سے ہوا۔ اس سے قبل ڈاک کی فیس عموماً وصول کنندہ ادا کرتا تھا، لیکن " ڈاک ٹکٹ " کے اجرا نے یہ نظام تبدیل کر دیا اور پیشگی ادائیگی کو رواج ملا۔ اس کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنے اپنے ڈاک ٹکٹ جاری کرنا شروع کیے اور ڈاک کا نظام زیادہ منظم اور مؤثر ہو گیا۔ اب دیکھتے ہیں قیام پاکستان کے فورا بعد پاکستان میں ڈاک ٹکٹ کی کہانی کب اور کیسے شروع ہوٸی ؟
پاکستان کے پہلے یادگاری ڈاک ٹکٹ 9 جولائی 1948ء کو ملک کی پہلی سالگرہ کے موقع پر جاری کیے گئے۔ ان 4 ٹکٹوں پر غلطی سے یومِ آزادی 15 اگست 1947ء درج کیا گیا جبکہ لکھنا 9 جولاٸی 1948 تھا۔ ڈاک ٹکٹ پر "پاکستان زندہ باد" انتہاٸی خوبصورت انداز میں لکھا گیا تھا۔ ان ڈاک ٹکٹوں کو معروف مصوروں عبدالرحمن چغتائی اور دیگر نے ڈیزائن کیا تھا۔
چغتاٸی صاحب نے خوبصورت اسلامی انداز میں " ڈاک ٹکٹ" ڈیزاٸن کیا تھا۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی نئی ریاست نے اپنی شناخت کو ڈاک کے نظام کے ذریعے بھی ظاہر کرنا شروع کیا۔
اس " ڈاک ٹکٹ " پرایک عمارت کی جھلک دکھائی گئی ہے، جو اس دور کی سرکاری عمارات کی نمائندگی کرتی ہے۔ کناروں پر ہلال اور ستارے کی علامت، نئی اسلامی مملکت کی شناخت کو اجاگر کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ اس ٹکٹ پر پڑنے والے دھبے، شکنیں اور رنگت کی مدھم ہوتی ہوئی جھلک ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ یہ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ "وقت کی مہر" ہے۔ یہ ڈاک ٹکٹ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان نے اپنے ابتدائی دن کس سادگی، وسائل کی کمی اور جذبے کے ساتھ گزارے۔ ایک ایسا دور جب ہر چیز نئی تھی، ہر قدم ایک جدوجہد تھا، مگر امیدیں بلند تھیں۔ آج جب ہم جدید سہولیات اور ڈیجیٹل رابطوں کے دور میں جی رہے ہیں، تو ایسے تاریخی نوادرات ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑتے ہیں۔ اور یہ سبق دیتے ہیں کہ ایک قوم کی اصل طاقت اس کے عزم اور حوصلے میں ہوتی ہے، نہ کہ صرف وسائل میں۔
ڈاک ٹکٹ پر موجود عمارت ایک "دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly)" کی عمارت ہے، جو اب کراچی میں "سندھ اسمبلی" کی عمارت کا حصہ ہے۔" 1947 میں آزادی کے وقت کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت تھا۔ یہ عمارت نئی ریاست کی قانون سازی کا مرکز بنی۔ پاکستان کا پہلا آئین (1956) اسی جگہ منظور کیا گیا تھا۔ آج یہ کراچی کی کورٹ روڈ پر واقع ایک اہم تاریخی مقام ہے۔" اگر چہ اس ٹکٹ پر 15 AUG 1947 کی تاریخ درج ہے، لیکن یہ سلسلہ باقاعدہ طور پر "9 جولائی 1948" کو جاری کیا گیا تھا۔ اس کے اوپر دائیں جانب اردو میں "پاکستان زندہ باد" لکھا ہوا ہے۔ " ٹکٹ کے کونوں میں "چاند اور ستارہ" بنے ہوئے ہیں جو پاکستان کی علامت ہیں۔ " اس کا طرزِ تعمیر برطانوی دور کے مخصوص "انڈو-ساراسینک" اسٹائل کو ظاہر کرتا ہے، جس میں گنبد اور محرابیں نمایاں ہیں۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان کی ابتدائی شناخت اور تاریخ کی ایک خوبصورت نشانی ہے۔ ہمارا پاکستان بہت خوبصورت ہے اس میں پائی جانے والی ہر شہ خوبصورت ہے، ہر تاریخ پیاری ہے، اس وطن عزیز کی قدر کیجیے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

وجیہہ تمثیل مرزا پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔