واشنگٹن: سمندری ڈرونز یا بغیر عملے والی کشتیاں جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ یہ ڈرونز نگرانی، انٹیلی جنس معلومات کے حصول، امدادی کارروائیوں اور بعض صورتوں میں حملوں کے لیے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
امریکی بحریہ کے پاس موجود سمندری ڈرونز میں کورسیئر ایک نمایاں مثال ہے۔ اگرچہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے قریب ایک کارروائی میں استعمال کیے گئے سمندری ڈرون کا نام یا ماڈل ظاہر نہیں کیا، تاہم امریکی بحریہ ایسے بغیر عملے والے نظاموں پر مسلسل کام کر رہی ہے۔
کورسیئر ڈرون کشتی تقریباً 24 فٹ لمبی ہے، جو 40 میل فی گھنٹہ تک رفتار سے سفر کر سکتی ہے اور سیکڑوں کلوگرام وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں جدید کیمرے، ریڈار، نیویگیشن نظام اور الیکٹرانک سینسرز نصب کیے جاسکتے ہیں، جو نگرانی اور معلومات جمع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
امریکی ماہرین کے مطابق ایسی کشتیاں پہلے بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں، تاہم اب انہیں مزید مختلف فوجی اور امدادی مقاصد کے لیے آزمایا جا رہا ہے۔ امریکی بحریہ نے بغیر عملے والے نظاموں کے استعمال کو بڑھانے کے لیے 2021 میں ٹاسک فورس 59 قائم کی تھی۔
دوسری جانب یوکرین جنگ میں بھی سمندری ڈرونز کا استعمال نمایاں طور پر سامنے آیا، جہاں یوکرین نے روسی بحری اہداف کے خلاف دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کشتیوں کا استعمال کیا۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی مختلف فریق سمندری ڈرونز استعمال کر چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری ڈرونز آنے والے برسوں میں بحری جنگ، نگرانی اور سکیورٹی آپریشنز میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ یہ کم خطرے اور کم لاگت کے ساتھ بڑے آپریشنز میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔